سرکاری سکولوں کی روزانہ مانیٹرنگ کا نیا نظام نافذ

سرکاری سکولوں کی روزانہ مانیٹرنگ کا نیا نظام نافذ

سی ای اوز سے لے کر اے ای اوز تک فیلڈ افسران روزانہ سکولوں کے معائنے کا پابند ،سکول سربراہان کو بھی روزانہ تین مرتبہ نگرانی کے راؤنڈز کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران روزانہ تین سکولوں ، ڈپٹی ڈی ای اوز کم از کم چار سکولوں کا معائنہ کریں گے ،سکول مینجمنٹ کمیٹی کے فنڈز سے سامان خریدنے کی اجازت

لاہور(خبر نگار)پنجاب کے سرکاری سکولوں کی مانیٹرنگ کے لیے نیا روزانہ نظام نافذ کردیا گیا ۔ سی ای اوز سے لے کر اے ای اوز تک فیلڈ افسران کو روزانہ سکولوں کے معائنے کا پابند بنایا گیا ہے ، جبکہ سکول سربراہان کو بھی روزانہ تین مرتبہ نگرانی کے راؤنڈز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ سکولوں میں صفائی، بنیادی سہولیات، حاضری اور فنڈز کے شفاف استعمال پر بھی زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کردی گئی ہے ۔ سرکاری سکولوں کی صورتحال بہتر بنانے اور افسران کی فیلڈ مانیٹرنگ مؤثر بنانے کے لیے محکمہ سکول ایجوکیشن نے روزانہ مانیٹرنگ کا نیا نظام نافذ کردیا ہے ۔نئی ہدایات کے تحت سی ای اوز ایجوکیشن روزانہ کم از کم دو سکولوں کے سرپرائز دورے کریں گے ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران روزانہ تین سکولوں جبکہ ڈپٹی ڈی ای اوز کم از کم چار سکولوں کا معائنہ کریں گے ۔سکولوں کے دوروں کے دوران لاگ بُک اور میڈیا ریکارڈ کی بھی مکمل جانچ کی جائے گی۔اے ای اوز کو سکول میں مقررہ وقت لازمی گزارنے کی ہدایت کی گئی ہے ، جبکہ دفتری امور کے لیے سکول چھوڑ کر واپس دفتر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔سکول سربراہان اور اساتذہ کو مقررہ وقت سے 15 منٹ پہلے سکول پہنچنا ہوگا، جبکہ تاخیر سے آنے والے عملے کی حاضری بھی اسی حساب سے لگائی جائے گی۔سکول سربراہان روزانہ تین لازمی نگرانی کے راؤنڈز کریں گے ۔پہلا راؤنڈ اسمبلی سے پہلے یا بعد، دوسرا کلاسز کے دوران جبکہ تیسرا راؤنڈ چھٹی سے پہلے کیا جائے گا۔تمام طلبہ کی چھٹی مکمل ہونے تک سکول سربراہ کو ادارے سے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔سکولوں میں فنڈز کے استعمال اور ریکارڈ میں مکمل شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔

دستیاب فنڈز کو ادارے کی ضروری ترقی کے لیے استعمال نہ کرنے پر سخت کارروائی ہوگی۔صفائی، واش رومز اور بنیادی سہولیات کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کلاس رومز، واش رومز اور گراؤنڈز کو ہر وقت صاف رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔طلبہ کے لیے صاف پینے کے پانی کی دستیابی یقینی بنانے ، سکولوں سے پلاسٹک بیگز، پولی تھین اور دیگر کچرا فوری ختم کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔لان کی دیکھ بھال، گھاس کی کٹائی اور پودوں کی تراش خراش بھی فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔نئے مانیٹرنگ نظام کے تحت تمام سرکاری سکولوں میں لائبریریاں اور کمپیوٹر لیبارٹریز فوری فعال کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔وسائل کی کمی کی صورت میں سکول مینجمنٹ کمیٹی کے دستیاب فنڈز سے ضروری سامان خریدنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے ۔نئے روزانہ مانیٹرنگ نظام کا مقصد سکولوں میں افسران کی فیلڈ موجودگی، اساتذہ و عملے کی بروقت حاضری، صفائی، بنیادی سہولیات اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا ہے ۔ اب ان ہدایات پر عملدرآمد کس حد تک یقینی بنایا جاتا ہے ، اس کا دارومدار فیلڈ افسران کی مؤثر نگرانی پر ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...