امتحانی سنٹرز اور کنٹرول رومز میں کیمرے لگانے کا فیصلہ،2کروڑ مختص
منصوبے کے تحت بی آئی ایس ای میں32لاکھ جدید مرکزی کنٹرول روم قائم ،ضلع ملتان، خانیوال، لودھراں اور وہاڑی میں قائم 51امتحانی مراکز کو جدید آئی پی کیمروں سے منسلک کیا جائیگا
ملتان(شاہد لودھی سے )تعلیمی بورڈ ملتان کے امتحانی سنٹرز اور کنٹرول رومز میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کافیصلہ ،دو کروڑ روپے مختص ۔تفصیل کے مطابق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان نے مالی سال 2025-26 کے لیے امتحانی مراکز میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سی سی ٹی وی نظام کی تنصیب کا فیصلہ کیا ہے اس منصوبے کے تحت ضلع ملتان، خانیوال، لودھراں اور وہاڑی میں قائم 51 امتحانی مراکز کو جدید آئی پی کیمروں سے منسلک کیا جائے گا جبکہ بی آئی ایس ای ملتان میں32لاکھ روپے سے ایک جدید مرکزی کنٹرول روم بھی قائم کیا جائے گا۔دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی تخمینہ لاگت 1 کروڑ 98 لاکھ 78 ہزار 100 روپے (تقریباً 19.88 ملین روپے ) مقرر کی گئی ہے جو تین الگ الگ حصے پر مشتمل ہے پہلے فیز میں ملتان اور خانیوال کے 17 امتحانی مراکز میں 111 آئی پی کیمروں کی تنصیب شامل ہے ۔ دوسرے میں لودھراں اور وہاڑی کے 15 مراکز میں 91 آئی پی کیمرے نصب کیے جائیں گے ۔
یوں مجموعی طور پر 202 آئی پی سی سی ٹی وی کیمرے مختلف امتحانی مراکز میں نصب ہوں گے تیسرے فیزمیں بی آئی ایس ای ملتان کے دفتر میں مرکزی کنٹرول روم کے قیام کے لیے مانیٹرنگ اسکرینز، ریکارڈنگ سرورز، اسٹوریج سسٹم اور دیگر متعلقہ آلات کی فراہمی شامل ہے جن پر 32لاکھ 47ہزار 400روپے خرچ ہوں گے بورڈ حکام کے مطابق اس جدید نگرانی نظام کے ذریعے امتحانی عمل کی براہِ راست مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی، نقل کی روک تھام میں مدد ملے گی اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں فوری شواہد دستیاب ہوں گے تمام مراکز کو مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کیا جائے گا تاکہ امتحانات کے دوران ریئل ٹائم نگرانی یقینی بنائی جا سکے دریں اثنا کیمروں کی تنصیب کے لئے درخواستیں بھی طلب کرلی گئیں ہیں
جس کے مطابق بولیاں صرف ای پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای-پیڈز) کے ذریعے جمع کرائی جا سکیں گی اور دستی یا کسی اور شکل میں دی گئی بولیاں قبول نہیں کی جائیں گی ۔درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 مارچ 2026 صبح گیارہ بجے تک مقرر کی گئی ہے جبکہ تکنیکی بولی اسی روزصبح ساڑھے گیارہ بجے بی آئی ایس ای ملتان کے اجلاس روم میں ہوگی ۔شرط کے مطابق بولی دہندگان کا سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے تحت رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے اور کم از کم تین سالہ تجربہ بھی شرط ہے ۔ بولی کی حفاظت کے لیے تخمینہ شدہ لاگت کا 5 فیصد بطور بینک گارنٹی جمع کرانا ہوگا جبکہ کامیاب کمپنی کو معاہدہ جاری ہونے کے سات دنوں کے اندر 10 فیصد کارکردگی گارنٹی فراہم کرنا ہوگی ۔منصوبے کے تحت فراہمی اور تنصیب کا مکمل عمل 30 دنوں کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگاتعلیمی و سماجی حلقوں نے اس اقدام کو امتحانی نظام میں شفافیت اور میرٹ کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ سی سی ٹی وی نگرانی کے مؤثر نفاذ سے نقل جیسے منفی رجحانات کی حوصلہ شکنی ہوگی اور طلبہ کو منصفانہ اور محفوظ امتحانی ماحول میسر آئے گا۔