غیر معیاری آٹے کی فروخت، انتظامیہ بے بس

غیر معیاری آٹے کی فروخت، انتظامیہ بے بس

من پسند تجزیاتی رپورٹس کے ذریعے ارباب اختیار کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا انکشاف ،ناقص آٹے کی بھی درست رپورٹس جاری کروا ئی جاتی ہیں15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2400 سے 2500 روپے تک پہنچ چکی ، اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4600 روپے ہو گئی ، کوئی کارروائی نہیں ہوتی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) فلور ملزمالکان کی مناپلی اور کمزو ر چیک اینڈ بیلنس کی وجہ سے ایک طرف توسرگودھا میں آٹے کی مہنگے داموں فروخت پر انتظامیہ بے بس نظر آ رہی ہے تو دوسری جانب مارکیٹ میں سرکاری طور پر فراہم کر دہ آٹے کا معیار سوالیہ نشان بنا ہوا ہے جبکہ من پسند تجزیاتی رپورٹس کے ذریعے ارباب اختیار کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا بھی انکشاف ہوا ہے ،ذرائع کے مطابق محکمہ فوڈ کی لیبارٹری سے ہر ماہ ضلع بھر کی 20سے زائد فلور ملوں کی انتظامیہ،لیبارٹری حکام اور چیکنگ افسران کی مبینہ ساز باز کے ذریعے اضافی وصولیوں کے عوض ناقص آٹے کی بھی مبینہ طور پر درست رپورٹس جاری کروا ئی جاتی ہیں،جس کی وجہ سے آ ج تک کسی ملزکے آٹے کا نتیجہ غلط نہیں آیا،جبکہ صارفین کی جانب سے 1100روپے میں دستیاب آٹے کی انتہائی ناقص کوالٹی پر بڑھتے ہوئے تحفظات تشویش کا باعث بنتے جا رہے ہیں اسی طرح فلور ملز مالکان کو سرکاری نرخوں پر جو گندم یومیہ دی جاتی ہے اس میں سے مختصر تعداد میں دس کلو آٹے کے تھیلے تیار کرکے باقی گندم سے 15کلو کے تھیلے تیار کر کے مہنگے داموں فروخت کئے جا رہے ہیں ،دوسری جانب چیک اینڈ بیلنس کے کمزور ترین نظام کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4600 روپے تک جا پہنچی ہے ، اوراس گندم سے تیار ہونے والے 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت مبینہ طور پر2400 سے 2500 روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...