سعودی عرب میں فوج کی تعیناتی کیلئے ترک پارلیمان سے منظوری لی جائیگی

سعودی عرب میں فوج کی تعیناتی کیلئے ترک پارلیمان سے منظوری لی جائیگی

معاہدہ کے تحت دوسرے ممالک میں تعینات ترک فوجی کسی بھی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لینگے :رکنِ پارلیمان فوجی مدد فراہم کرنے کی مجوزہ کارروائی کا مقصد سعودی سرزمین کا دفاع ہے ، یمن پر حملہ کرنا نہیں:مصری صدر

انقرہ ( نیوز ایجنسیاں ) ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے پارلیمان میں قرارداد پیش کرے گا۔ یہ بات ترکیہ کی حکمران جماعت آق پارٹی کے ایک رکنِ پارلیمان نے رائٹرز کو بتائی۔عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت سے متعلق قرارداد پارلیمان میں اس وقت پیش کی جائے گی جب معاہدے کی توثیق کا بل منظور ہو جائے گا۔ رکنِ پارلیمان نے کہا کہ معاہدے کے تحت دوسرے ممالک میں تعینات کیے جانے والے ترک فوجی کسی بھی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے ۔

ابتدائی طور پر فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگی ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی معاونت کے لیے تکنیکی عملہ اور ماہرین بھیجے جائیں گے ۔حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرنے والا ترکیہ بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل ہونے پر بھی رضامند ہو چکا ہے ۔ دوسری جانب مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کی مجوزہ کارروائی کا مقصد سعودی سرزمین کا دفاع ہے ۔اسی ہفتے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا۔مزید براں فرانس کے صدر نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا اچانک دورہ کیا ہے ، جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے ۔

اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے ۔ اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب نے فرانس کو ضرورت کے مطابق کئی ماہ تک اضافی ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ فرانسیسی ایلیزے محل کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے سکیورٹی تعاون بڑھانے اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے بچنے کے لیے متبادل بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر مشاورت کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں عراقی حکام نے ایران کے ساتھ ایک سرحدی گزرگاہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی ہے ۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...