کوئلے کا بڑھتا ہوا استعمال …(2)
تحریر: کیتھ بریڈشر
قدرتی گیس‘ جسے جلانے پر کوئلے کے مقابلے میں تقریباً نصف کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے، چین کے لیے کوئلے سے قابلِ تجدید توانائی پر منتقلی تک ایک ممکنہ رابطہ یا پُل پیش کرتی ہے۔ چین کوئلے کی بجائے قدرتی گیس کو کس قدر فروغ دیتا ہے‘ اس سے نہ صرف اس کی معیشت بلکہ روس کے ساتھ تعلقات پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے باوجود پائپ لائنوں کے ذریعے اور مائع قدرتی گیس کی صورت میں ترسیل سے روس سے گیس کی درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سال چین نے مشرقی سائبیریا سے پائپ لائن کے ذریعے اپنی گیس کی درآمدات تقریباً دوگنی کر دی ہیں‘ لیکن مجموعی طور پر روسی درآمد شدہ گیس چینی توانائی کی کھپت کا صرف 1 فیصد ہے اور چین کی گیس کی کُل کھپت کے دسویں حصے سے بھی کم ہے۔ چین اپنے شمالی پڑوسی سے کتنی گیس مزید خریدنے کے لیے تیار ہے‘ یہ واضح نہیں ہے اور اس حوالے سے مغربی حکام اور توانائی کے تجزیہ کار شدید قیاس آرائیوں کا شکار ہیں۔
سب سے بڑا حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ آیا ایک بڑی دوسری پائپ لائن جسے پاور آف سائبیریا ٹو کہا جاتا ہے، منگولیا سے چین تک تعمیر کی جائے۔ مغربی سائبیریا کے گیس کے ذخائر یورپ کو گیس سپلائی کر رہے تھے‘ لیکن روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر اپنے حملے کی مخالفت کرنے پر یورپی رہنماؤں کو سزا دینے کے لیے اس گیس کے بہاؤ کو تیزی سے کم کر دیا ہے۔ روس پاور آف سائبیریا 2 بنانے کا خواہاں ہے، جو چین کی گیس کی ضروریات کا دسواں حصہ فراہم کر سکتا ہے‘ لیکن ایسا لگتا ہے کہ چین فی الحال رکا ہوا ہے اور اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا ماسکو کے ساتھ اپنے توانائی کے تعلقات کو گہرا کرنا ہے یا نہیں۔ چین نے مسلسل فراہمی کے تنوع اور طویل مدتی، کم لاگت معاہدوں کی کوشش کی ہے۔ رائس یونیورسٹی میں ’قدرتی گیس اور روس‘ کی ماہر انا میکولسکا نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’’چین نے ابھی تک کوئی عزم یا فیصلہ نہیں کیا ہے‘ وہ سودے بازی کی تلاش میں ہیں‘‘۔
چین کی توجہ اس وقت کوئلے پر مرکوز ہے۔ بیجنگ ریجن کی طلب میں مختصر لیکن شدید اضافوں کو پورا کرنے کے لیے کوئلے سے چلنے والے ایک بڑے پاور پلانٹ کو تیار رکھنے کی حکمت عملی عالمی پاور انڈسٹری میں روایتی حکمت کی نفی کرتی ہے۔ قدرتی گیس کو طویل عرصے سے طلب میں ایسے بڑے اضافوں کو پورا کرنے کے لیے ایک بہتر انتخاب کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، کیونکہ گیس سے چلنے والی ٹربائنیں منٹوں یا سیکنڈوں میں بجلی کی پیداوار کو بڑھا سکتی ہیں۔ کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو سرد سے گرم ہونے اور پیداوار شروع کرنے میں کچھ دن لگ سکتے ہیں۔ طویل عرصے سے چینی توانائی کے ماہر زہو شی زہو‘ جو ان دنوں ایس اینڈ پی گلوبل میں ہیں‘ نے بتایا کہ چین اب کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو دوبارہ فٹ کرنے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ انہیں بجلی کی بے انتہا ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ موزوں بنایا جا سکے۔ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو آہستہ آہستہ چلایا جاتا ہے‘ 30 سے 50 فیصد صلاحیت پر، جیسے کہ چین کے کچھ شہروں میں کیا جا رہا ہے‘ اور ایسا کرنا قابلِ تجدید توانائی کی کمی ہو تو پلانٹس کو بہت جلد پوری صلاحیت پر لانے کی اجازت دیتا ہے۔
امریکی توانائی کے سابق اہلکار مسٹر سینڈالو کا کہنا ہے کہ آب و ہوا کے لیے خطرہ یہ ہے کہ الیکٹرک یوٹیلیٹیز کو محض کچھ وقت کے لیے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو چلانے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا ’’ کوئی اثاثہ بننے کے بعد، کیا اسے مزید یا پورا استعمال کرنے کا دباؤ ہو گا؟‘‘۔
بیجنگ نے بجلی کی کمی کے دوران کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کے لیے الیکٹرک یوٹیلیٹیز کو فی کلو واٹ فی گھنٹہ سے کہیں زیادہ رقم وصول کرنے کی اجازت دینا شروع کر دی ہے۔ اگست میں بجلی کی قیمت میں اس وقت اضافہ ہوا جب جنوب مغربی چین میں خشک سالی نے پن بجلی میں کمی پیدا کر دی جو بلیک آؤٹس کی لہر کا باعث بنی۔ فرینک ہوگ وٹز‘ جو طویل عرصے سے چینی شمسی توانائی کے شعبے کے مشیر ہیں‘ کا کہنا ہے ’’یہ صورت حال بہت سی کمپنیوں کو اپنے کارخانوں کی چھتوں پر سولر پینل لگانے پر غور کرنے کے مقام پر لے آتی ہے‘‘۔ باقی دنیا میں ہر سال جتنے سولر پینل لگائے جا رہے ہیں چین اپنے ہاں ان کی مجموعی تعداد سے زیادہ میں شمسی پینل لگا رہا ہے۔ اس سال نئی تنصیبات کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دوبارہ دوگنی ہو جائے گی۔ ملک کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن نے لازمی قرار دیا ہے کہ نئی شمسی تنصیبات کے دھیرے دھیرے بڑھتے ہوئے تناسب میں بیٹریاں بھی ہونی چاہئیں۔ یہ شرط اس حقیقت کے باوجود رکھی گئی ہے کہ اس سے سسٹم زیادہ مہنگا ہو جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ شمسی پینل دن کے وقت بجلی کی ضروریات کو پورا کریں اور سورج غروب ہونے کے بعد مزید دو سے چار گھنٹے تک مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیٹریوں میں بجلی ذخیرہ کر لیں۔ بیٹریاں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے اضافی وقت بھی فراہم کرتی ہیں۔
چین کی آب و ہوا کے حوالے سے ماضی میں دی گئی ضمانتوں کی ایک خاصیت ملک کی کوئلے کی صنعت کو اگلے سات سالوں میں زیادہ سے زیادہ کوئلہ جلانے کے لیے ایک غیر معمولی ترغیب دیتی ہے۔ صدر شی جن پنگ نے وعدہ کیا ہے کہ چین کا خالص کاربن اخراج ’’2030ء سے پہلے‘‘ عروج پر ہو گا اور پھر 2060 تک سکڑ کر صفر ہو جائے گا۔لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اخراج کتنا بلند ہو گا‘ لہٰذا آنے والے سالوں میں اضافی کوئلہ جلانے سے کوئلے کی صنعت کو مزید کانیں کھودنے اور پاور پلانٹس کو کئی سالوں تک زیادہ پیداوار پر چلانے میں مدد مل سکتی ہے جس سے منافع اور ملازمتوں کو تحفظ ملے گا۔ چین کے ماہرین ان خدشات کو مسترد کرتے ہیں کہ ان کا ملک ایسا کرے گا۔ کولمبیا یونیورسٹی کے سنٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کے بیجنگ میں مقیم فیلو کیون ٹو کا کہنا ہے کہ چین کی قومی حکومت موسمیاتی اہداف کے علاوہ سموگ اور دیگر زہریلی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پُرعزم ہے؛ تاہم کیون ٹو کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’بیجنگ اتھارٹیز کو مقامی حکام کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کڑی نگرانی کی ضرورت ہو گی کہ وہ قومی پالیسیوں کی پیروی کریں۔ مقامی حکومتوں کی سطح پر، مختلف مفاد پرست گروہ صوبائی سطح پر اخراج کو بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ عمل مختصر مدت میں اعلیٰ اقتصادی ترقی لائے گا‘ لیکن بد قسمتی سے طویل مدتی تناظر میں ماحول کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی‘‘۔ ایک بڑھتا ہوا اور تیزی سے ابھرتا ہوا موسمیاتی چیلنج یہ ہے کہ چین کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں گزشتہ سال ایک دہائی میں سب سے تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ ملک میں کوئلے کے استعمال کی عادت برسوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مسائل پر کیسے قابو پایا جائے گا؟ (ختم)
(بشکریہ: نیویارک ٹائمز، انتخاب: دنیا ریسرچ سیل، ترجمہ: زاہد رامے)
(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)