اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگا پٹرول، مہنگائی کا خدشہ

رمضان المبارک سے عین قبل پٹرول کی قیمت میں پانچ روپے اور ڈیزل کی قیمت میں سات روپے سے زائد فی لٹر اضافے نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس فیصلے کے اثرات براہِ راست شہریوں کے بجٹ پر مرتب ہوں گے اور رمضان سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کی نئی لہر کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ پہلے ہی اشیائے خورونوش عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہیں‘ جبکہ ذخیر اندوزی اور ناجائز منافع کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے مال برادری کے اخراجات میں اضافہ ہو گا‘ ٹرانسپورٹ‘ زراعت اور بجلی کی پیداواری لاگت بڑھے گی‘ جس کا براہِ راست اثر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑے گا اور عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ رمضان المبارک کے قریب ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ صارفین کے بجٹ کو شدید متاثر کرے گا۔

اس وقت پٹرولیم لیوی‘ کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور کسٹم ڈیوٹی سمیت دیگر مدات میں شہریوں سے پٹرول پر تقریباً 105روپے جبکہ ڈیزل پر 97 روپے فی لٹر ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں۔ حکومت عالمی مارکیٹ کے دبائو کو قیمتوں میں اضافے کے بجائے ٹیکسوں میں کمی کر کے بھی برداشت کر سکتی ہے۔ لہٰذا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو متوازن بنانے کیلئے ان پر عائد ٹیکسوں اور لیوی میں کمی کی جانی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں