کرکٹ، مایوس کن کارکردگی
قومی کرکٹ ٹیم کی اتوار کے رو زروایتی حریف بھارت کے ہاتھوں حالیہ شکست نے ایک بار پھر ٹیم کی مجموعی سمت اور ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ محض ایک میچ میں ہار کو وقتی لغزش قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے‘ مگر 2007ء سے اب تک بھارت کے خلاف کھیلے گئے 16 ٹی ٹونٹی میچوں میں 13 شکستیں اور صرف تین فتوحات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ وقتی نہیں‘ ساختی نوعیت کا ہے۔ اتوار کے میچ میں پوری بیٹنگ لائن بھارتی گیند بازی کے آگے تنکوں کی طرح بکھر گئی۔ نہ اوپنرز مضبوط بنیاد فراہم کر سکے‘ نہ مڈل آرڈر دباؤ سنبھال سکا۔ پاور پلے میں پے درپے وکٹوں کا گرنا اور اس کے بعد غیر ذمہ دارانہ شاٹس اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹیم کسی منصوبہ بندی کے بغیر میدان میں اتری تھی جبکہ جدید کرکٹ مہارت‘ ڈیٹا انالیسز‘ میچ اَپ سٹرٹیجی اور اعصابی کنٹرول کا کھیل ہے۔

کرکٹ انتظامیہ کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ مسئلہ صرف کھلاڑیوں کا نہیں‘ پورے سسٹم کا ہے۔ ضروری ہے کہ حالیہ شکست کو اصلاح کا نقطہ آغاز بنایا جائے۔اچھی کارکردگی کیلئے ڈومیسٹک سٹرکچر کو مضبوط بنانا‘ ڈیٹا پر مبنی سلیکشن‘ سپورٹس سائیکالوجی کی مدد سے ہائی پریشر میچوں کی تیاری اور جدید ٹی ٹونٹی تقاضوں کے مطابق پاور ہٹنگ اور ڈیتھ بولنگ پر خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔ کرکٹ کو سیاست سے پاک رکھنا بھی بنیادی شرط ہے۔ جب تک سلیکشن کے فیصلے میرٹ‘ شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار پر نہیں ہوں گے‘ ٹیم کیلئے اچھی کارکردگی دکھانا ممکن نہیں۔