سرکاری اداروں کا بڑھتا خسارہ
وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025ء میں 25 سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 832 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مالی سال 2024ء میں منافع نکالنے کے بعد خالص نقصان 30.6 ارب روپے تھا‘ جو مالی سال 2025ء میں 300 فیصد بڑھ کر تقریباً 123ارب روپے ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو (تقریباً 295 ارب روپے) ہوا۔ اس کے بعد بجلی کی سپلائی کمپنیاں‘ پاکستان ریلوے اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی آتی ہیں۔ دریں حالات یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قومی اداروں کا بڑھتا خسارہ ہی وہ دیمک ہے‘ جو قومی خزانے کو مسلسل چاٹ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجموعی سالانہ خسارہ اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ جہاں محض اصلاحات کے نعروں سے کام نہیں چلے گا بلکہ فوری نجکاری کے سوا اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے سرکاری اداروں میں گورننس کی بہتری‘ اصلاحات اور رائٹ سائزنگ کے دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام کوششیں وقتی اقدامات سے کچھ زیادہ ثابت نہیں ہوئیں۔

سیاسی مداخلت‘ نااہلیت اور فرسودگی نے ان اداروں کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں اصلاحات کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب قومی ادارے عوامی خدمت کے بجائے سیاسی بھرتیوں کا مرکز بن جائیں تو ان کا زوال پذیر ہونا طے شدہ بات ہے۔ ایسی صورت میں بنیادی خرابیوں کا ازالہ کیے بغیر کوئی اصلاحاتی ماڈل کامیاب نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ چار برسوں سے خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کا عندیہ دیا جا رہا ہے مگر اب تک محض پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل کیا جا سکا۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور سٹیل مل جیسے بڑے خسارے والے اداروں کی نجکاری کا عمل یا تو تعطل کا شکار ہے یا اسے دانستہ طور پر لٹکایا جا رہا۔ یہ تاخیر ملکی معیشت کیلئے زہرِِ قاتل ثابت ہو رہی ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان اداروں کی واجب الادا رقوم کا حجم بھی بڑھتا جا رہا جبکہ ان کی مارکیٹ ویلیو بھی متاثر ہو رہی ہے۔
گزشتہ مالی سال حکومت کی جانب سے خسارے کے شکار اداروں کو 2078 ارب روپے سے زائد کی گرانٹ دی گئی‘ جو 2024ء کے مقابلے میں 37فیصد زائد ہے۔ یہ موازنہ تکلیف دہ ہے کہ حکومتی گرانٹس کا تناسب مالی سال 25ء میں وفاقی حکومت کے اکٹھے کیے گئے کُل ٹیکس (12970 ارب روپے) کا تقریباً 16 فیصد ہے‘ یعنی ٹیکس کے ہر چھ روپے میں سے تقریباً ایک روپیہ سرکاری اداروں کو رواں رکھنے پر خرچ کیا جا رہا۔ اس بھاری بھرکم گرانٹ سے عوام کا کتنا بھلا ہو رہا اور بدلے میں حکومت کو کیا مل رہا‘ یہ جاننا چنداں مشکل نہیں۔ ایسے وقت میں جب معیشت آئی ایم ایف کی سخت شرائط سے نبرد آزما ہے اور عوام کو ملنے والی ہر سہولت ختم کی جا رہی ہے‘ سینکڑوں ارب روپے سرکاری اداروں کو گرانٹس کی صورت میں فراہم کرنا کسی طور روا نہیں ہے۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں‘ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں مگر ٹیکسوں سے اکٹھا کیا گیا پیسہ ترقیاتی منصوبوں یا عوامی فلاح پر خرچ ہونے کے بجائے ناکام سرکاری اداروں کے سوراخوں کو بھرنے میں ضائع کیا جا رہا ہے۔
یہ محض معاشی نااہلی ہی نہیں بلکہ حکومتی بدانتظامی بھی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست کاروباری ادارے چلانے کے بجائے محض ریگولیٹر کا کردار ادا کرے۔ نجکاری کے عمل کو عملی قالب میں ڈھالنا اب معاشی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب تک خسارے کے شکار ادارے نجی شعبے کے حوالے نہیں کیے جاتے‘ ان کے خسارے کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اسکا واحد علاج نجکاری کی تیز رفتار اور شفاف تکمیل ہے۔ حکومت کو اب سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر جرأت مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری کمزور معاشی حالت عوامی ٹیکسوں کے پیسوں سے ان سفید ہاتھیوں کو مزید پالنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔