سینئر اداکار محمود علی کی 5ویں برسی آج منائی جائے گی
1928ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے، 1945ء سے کیرئیر شروع کیا، 5دہائیوں تک ریڈیو ، اسٹیج اور ٹی وی کی ڈرامہ انڈسٹری پر راج کیا کام سے لگن کے باعث ہر پروڈیوسر انہیں کاسٹ کرنیکا خواہشمند تھا، انہوں نے ’’تعلیم بالغاں‘‘میں مولوی صاحب کے کردار کو یادگار بنادیا 85ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ملا، مشہور ڈراموں میں ’’خد ا کی بستی، لیلیٰ مجنوں، شہزوری، انا ، آنچ، دشت آشنا،افشاں‘‘اور دیگر شامل ہیں
کراچی(اسٹاف رپورٹر )ریڈیو ، ٹی وی اور تھیٹر کے سینئر اداکار محمود علی کی 5 ویں برسی آج منائی جائے گی۔ انٹرٹین منٹ انڈسٹری کے مقبول ترین فنکار و صداکار کا فنی کیریئر کئی دہائیوں پر مشتمل رہا ، وہ پانچ دہائیوں تک ریڈیو اور انٹر ٹین منٹ ا نڈسٹری پر راج کرتے رہے ، اس دوران انہوں نے ہزاروں ریڈیو پروگرام، ڈراموں، لاتعداد اسٹیج اور ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ۔کام سے لگن کی بناء پر ہر ڈرامہ پروڈیوسر انہیں کاسٹ کرنے کا خواہش مند رہتا تھا۔ ان کے تجربے نے کئی نوعمر ڈرامہ پروڈیوسرز کو کامیاب پروڈیوسرز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1928ء میں حیدر آباد دکن(انڈیا)میں پیدا ہونے والے سید محمود علی نے اپنے سفر کا آغاز 1945 ء میں آل انڈیا ریڈیو سے کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ 1947 ء میں ہجرت کرکے لاہور آ ئے تھے۔بعدازاں وہ کراچی آگئے اور ریڈیو پاکستان سے ایک بار پھر وابستہ ہوگئے۔ ریڈیو پاکستان کراچی میں دوران ملازمت انہوں نے کئی ڈراموں میں صداکار کی حیثیت سے کام کیا ۔ ان کا ریڈیو پروگرام حامد میاں کے ہاں ریڈیو سامعین کا مقبول ترین پروگرام تھا جس میں انہوں نے مسلسل 50 برس تک کا م کیا ۔اسی دوران انہوں نے 1969 ء میں تھیٹر پر اپنی فنی صلاحتیوں کا اظہار کرنے کے لیے خواجہ معین الدین تھیٹر کو جوائن کیا جس کے بینر تلے پیش کیے گئے تھیٹر پلے ’’تعلیم بالغان ‘‘میں محمود علی نے مولوی صاحب کا کردار اس خوبصورتی سے ادا کیا جس کی شہرت کے چرچے کئی دہائیوں تک دنیائے فن میں گونجتے رہے ۔اس ڈرامے میں ان کے ہمراہ قاضی واجد ، محمد یوسف اور سبحانی بایونس نے بھی عمدہ کام کیا۔ اس ڈرامے کے بعد انہوں نے کئی مقبول ترین اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ان میں ’’مرزا غالب بندر روڈ پر، کاروان کشمیر، لال قلعہ سے لالو کھیت تک‘‘اور دیگر میں ان کی دلچسپ طربیہ و المیہ کردار نگاری کو تھیٹر کے شائقین نے ہمیشہ پسند کیا۔ انہوں نے 1965ء میں پاکستان ٹیلی ویژن جوائن کیا ، ان کا پہلا ٹی وی ڈرامہ ’’راستہ ‘‘تھا۔ تھیٹر کی مقبولیت کے پیش نظر ان کا کلاسیکل اسٹیج ڈرامہ ’’تعلیم بالغاں ‘‘ٹی وی پر پیش کیا گیا جس میں ان کے ہمراہ ان کے دوست فنکار قاضی واجد ، سبحانی بایونس مرحوم، محمد یوسف مرحوم نے تھیٹر والے کردار ادا کیے ۔محمود علی نے مولوی صاحب کے کردار میں ایک بار پھر ٹی وی اسکرین پر عمدہ کردار نگاری کرکے ناظرین کے دلوں میں گھر کرلیا تھا۔ اس ڈرامے میں عمدہ کردار نگاری کرنے پر مرحوم کو کئی اداروں کی جانب سے اعزازات سے نوازا گیا۔ محمود علی نے پی ٹی وی سے کئی یادگار ڈرامہ سیریل اور انفرادی ڈراموں میں کام کیا ۔ان میں ’’خدا کی بستی، لیلی مجنوں، شہزوری، انا ، آنچ، دشت آشنا،افشاں، تعلیم بالغاں اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کراچی میں بنائی جانے والی کئی فلموں میں بھی کردار نگاری کی ان میں اداکار محمدعلی کے ساتھ بھی کئی فلمیں شامل ہیں ۔ فلمی کیریئر میں انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ، فلمی صنعت کے لاہور چلے جانے سے بھی کراچی میں مصروف ریڈیو اور ٹی وی فنکاروں کیلئے وقت نکالنا مشکل ہوجاتا تھا ، اس کے باوجود انہوں نے 25 کے قریب فلموں میں کام کیا۔ فلم ، ٹی وی ، تھیٹر اور ریڈیو کے سینئر ترین اداکار محمود علی کو ان کی ناقابل فراموش فنی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے 1985ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا ۔ ان کی فنی صلاحیتوں کا اعتراف نجی و سرکاری طور پر بھی کیا گیا۔ اداکار محمود علی زندگی کے آخری ایام میں دل کے مرض میں مبتلا ہوگئے تھے ،ایک دن اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کی بناء پر 11 جولائی 2008 ء کو دار فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اعتراف آج کی نئی نسل بھی کرتی ہے ، بالخصوص تھیٹر و ٹی وی کی دنیا کے لوگوں کے لیے وہ ایک رول ماڈل رہے ہیں۔ مرحوم کے ڈرامے موجودہ دور میں تر بیتی اداروں کے لیے رہنمائی کا کام دے رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments