تازہ اسپیشل فیچر

پٹرول کی قیمتیں،عوام اور حکومت کا امتحان

اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی کے عالمی بحران نے پاکستان کی معیشت کیلئے ایک نئی آزمائش پیدا کر دی ہے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ خطے میں تیل کی تنصیبات، ٹینکرز اور اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات نے عالمی سپلائی کے بارے میں غیر یقینی بڑھا دی ہے۔

16 ستمبر کو پاکستان میں پٹرول کی قیمت 4.10 روپے اضافے کے بعد 384.34 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 6.41 روپے اضافے کے بعد 415.83 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا، یہ صورتحال محض پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ نہیں، پاکستان جیسی درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والی معیشت میں پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار اور بالآخر خوراک سمیت تقریباً ہر شعبے کی لاگت بڑھے گی اور بڑھ رہی ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں طے ہونے کے فارمولے کے بعد عوام کو ہر روز قیمتوں میں اضافے کی ایک برُی خبر ملتی ہے اور یہ سلسلہ فی الحال رکنے کا نام نہیں لے رہا، آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب میں غیر یقینی صورتحال تو تھی ہی، یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملے صورتحال کو اور زیادہ گمبھیر بنا رہے ہیں۔

امریکہ ایران کے ساتھ جنگ سے نہ تو خود نکل پا رہا ہے بلکہ ایران جنگ کے مس ایڈونچر نے اس کے اتحادیوں بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، امریکی ناکہ بندی کا اگرچہ ایرانی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں مگر ایران طے کر چکا ہے کہ امریکی مڈ ٹرم انتخابات تک اس صورتحال کو جاری رکھنا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت اسی طرح گرتی رہے اور انہیں مڈ ٹرم انتخابات میں سبکی کا سامنا کرنا پڑے۔

ایرانی قیادت کو اندازہ ہے کہ صدر ٹرمپ مڈ ٹرم انتخابات سے قبل اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں اور وہ ایسا نہیں ہونے دینا چاہتا، اب تو صدر ٹرمپ نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نومبر میں ہونے والی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہو جائے گی۔

دوسری جانب ایک امریکی جریدے نے امریکی حکام سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ صدر ٹرمپ کی صدارتی مدت کے خاتمے تک جاری رہ سکتی ہے، اب ایسے میں پٹرولیم کی عالمی مارکیٹ غیر یقینی کا شکار رہنے کا قوی امکان ہے۔

ایک جانب عالمی آئل مارکیٹ کی صورتحال ہے تو دوسری جانب پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل صورتحال کو مشکل بنا رہا ہے، روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بظاہر عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو فوری طور پر صارف تک منتقل کرنے کا طریقہ ہے لیکن عوام کیلئے اس کے کئی منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔

روزانہ قیمت بدلنے کا سب سے بڑا مسئلہ قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال پیدا ہونا ہے، اس میں عام شہری کا تو بجٹ شدید متاثر ہوا ہی ہے، تاجر، صنعتکار خاص طور پر اس پالیسی سے متاثر ہو رہے ہیں اور انہیں کئے گئے کنٹریکٹس پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے، ٹرانسپورٹ کمپنیاں، صنعتکار اور زرعی شعبہ اپنے اخراجات پہلے سے طے کرنا چاہتے ہیں مگر ایسا نہ ہونے سے کاروبار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

تنخواہ دار طبقہ کے ماہانہ ٹرانسپورٹ اخراجات غیر یقینی ہوتے جا رہے ہیں، روزانہ قیمتوں کے تعین کا فائدہ عوام کی بجائے حکومت کو ہے جو تیل کے پہلے کئے گئے سودوں کو موجودہ تازہ ترین مہنگے ریٹ پر منتقل کر رہی ہے، مگر حال ہی میں دیکھا گیا کہ جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کچھ کم ہوئیں تو روزانہ قیمتوں کے تعین کا فوری فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا گیا، روزانہ قیمتوں کا اعلان عوام کے ذہن میں مسلسل مہنگائی کا احساس بھی پیدا کرتا ہے اور اس سے مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہو رہی ہے۔

اس میں مسئلہ صرف روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین یا 15 روزہ تعین کا نہیں بلکہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے کی ساکھ کا بھی ہے، عوام کو یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ پٹرول کی اصل قیمت عالمی مارکیٹ کے تناسب سے کتنی ہے اور اس پر ٹیکسز اور مارجنز کتنے ہیں، پٹرول اور ڈیزل پر 80 روپے فی لیٹر لیوی سمیت دیگر ڈیوٹیز اور مارجنز 100 روپے سے بڑھ جاتے ہیں، انہی ٹیکسز کی وجہ سے پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں خطے میں بھارت، چین، بنگلہ دیشن اور سری لنکا کے مقابلے میں 48 سے 68 روپے فی لیٹر تک زیادہ ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سمیت سیاسی جماعتیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ پٹرولیم لیوی کو ختم کیا جائے، پٹرول اور ڈیزل پر لیوی وصول کر کے وفاقی حکومت اپنے ٹیکس اہداف پورے کرتی ہے کیونکہ پٹرول پر لیوی عائد کر کے اہداف پورے کرنا براہ راست ٹیکسز کی نسبت آسان ہے، حکومت کہتی ہے کہ آئی ایم ایف کو راضی رکھنے کیلئے یہ لیوی ناگزیر ہے۔

حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل، رکشہ اور تین پہیوں والی سواریاں چلانے والے، 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کیلئے 20 سے 30 لیٹر ماہانہ تک کی خریداری پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا آغاز کیا گیا ہے، حکومت کے مطابق لیوی کے خاتمے کی بجائے ٹارگٹڈ ریلیف دینے کا مقصد یہی ہے کہ یہ ریلیف حقدار لوگوں کو ہی مل سکے۔

وزیر اعظم روزانہ کی بنیاد پر اس فیول سبسڈی سے متعلق پیشرفت پر اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتیں پاکستان کیلئے امپورٹ بل میں بھی بڑا اضافہ کر رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن پر بھی مشاورت ہو رہی ہے جس میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی چھٹی، دفتری اوقات کار میں کمی اور 50 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ، غیر ضروری سفر میں کمی، ملازمین کی روٹیشن جیسی تجاویز زیر غور ہیں، تاہم اس پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں جہاں عوام کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہیں وہیں حکومت کیلئے بھی بڑا امتحان ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے باعث ریلیف کے معاملے پر اس کے ہاتھ بندھے ہیں اور اس صورتحال میں عوامی اور سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف سڑکوں پر آنے کیلئے تیار ہیں۔