تیراہ : آپریشن نہیں ٹارگٹڈ کارروائی، 65 فیصد کی نقل مکانی

تیراہ : آپریشن نہیں ٹارگٹڈ کارروائی، 65 فیصد کی نقل مکانی

35 فیصد خاندان تاحال تیراہ میں موجود، وادی میں صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے جا رہے ،بڑے پیمانے پر کارروائی ہورہی نہ ہی یہ کسی پلان کا حصہ شدید موسمی حالات بڑے پیمانے پر آپریشنز کی راہ میں رکاوٹ ،ماضی کے تجربات کی بنیاد پر بھی پاک فوج بڑی کارروائیوں سے گریز کرتی ہے :سکیورٹی ذرائع

اسلام آباد (عدیل وڑائچ) سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ تیراہ میں آئی بی اوز کے علاوہ کوئی آپریشن نہیں ہو رہا ، تیراہ کے علاقے باغ میدان سے 65 فیصد خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ 35 فیصد خاندان تاحال تیراہ میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق باغ میدان کے علاقے سے مجموعی طور پر 19 ہزار خاندانوں کی نقل مکانی طے تھی ۔ ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج نے تیراہ کے رہائشیوں کی نقل مکانی کا کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا البتہ مقامی آبادی کے خدشات کے پیش نظر کولیٹرل ڈیمج سے بچنے کیلئے اسے جب ایک آپشن کے طور پر پیش کیا گیا تو مقامی لوگوں نے اسے خود منتخب کیا ، سکیورٹی فورسز نے نقل مکانی کیلئے کوئی ٹائم لائن مقرر نہیں کی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ تیراہ میں صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے جا رہے ہیں ، بڑے پیمانے پر آپریشن نہ تو ہورہے ہیں نہ ہی یہ کسی پلان کا حصہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسا کہ کسی بھی بڑے آپریشن سے قبل اضافی فوجی نفری کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی جاتی ہے ، تیراہ میں فوج کی ایسی کسی تعیناتی کا عمل نظر نہیں آیا۔ تیراہ کے نہ صرف شدید موسمی حالات بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر پاک فوج بڑے پیمانے کی کارروائیوں سے گریز کرتی ہے کیونکہ ایسی کارروائیوں سے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کئے گئے تو دہشتگرد تیراہ میں آبادی والے علاقوںمیں مقیم تھے جسکے نتیجے میں کولیٹرل ڈیمج ایک بڑا چیلنج بن گیا، جانوں کے ضیاع سے بچنے کیلئے تیراہ کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ قبائلی عمائدین کے متعدد جرگے منعقد کئے گئے جن میں دہشتگردوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خاتمے کیلئے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا ۔

ذرائع نے بتایا کہ مقامی مشران کو اپنی مرضی کا حل تجویز کرنے کیلئے تین ماہ کا وقت دیا گیا اس دوران انہوں نے تیراہ میں مقیم خوارج سے رابطہ کرکے انہیں علاقہ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاکہ کولیٹرل ڈیمج سے بچا جا سکے مگر خوارج نے اس درخواست کو مسترد کر دیا جسکے بعد مشران نے مقامی حکومت سے رجوع کرتے ہوئے یہ آپشن پیش کیا کہ سکیو رٹی فورسز کی کارروائی کے دوران وہ خود عارضی طور پر اپنے گھروں سے نقل مکانی کریں گے تاکہ دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جا سکے ۔ ذرائع کے مطابق مقامی انتظامیہ سے ابتدائی مشاورت کے بعد صوبائی سطح پر بھی تسلسل کے ساتھ جرگے منعقد ہوئے ۔ 26 دسمبر 2025 کو مشران نے اپنے مطالبات صوبائی حکومت کو پیش کئے اور علاقہ خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ۔ اسی فیصلے کی بنیاد پر صوبائی حکومت نے تیراہ کے عوام کی نقل مکانی کیلئے 4 ارب روپے کی منظوری دی مگر نہ صرف یہ رقم ٹھیک طرح خرچ ہوسکی بلکہ سارا عمل بد انتظامی کا شکار ہو کر رہ گیا ، صوبائی بد انتظامی کے باعث تیراہ کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہونے لگا تو ایک خاص بیانیہ بنا کر وفاقی حکومت اور فوج کے خلاف بیانیہ بنانا شروع کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں