بلوچستان،پختونخوا:دہشتگردوں کے حملے،14مزدوراغوا،7حملہ آور ہلاک
بارکھان سے 3اورخضدار سے 11مزدوروں کو اغوا کیاگیا،پشین میں فائرنگ کے تبادلے میں 5دہشت گرد مارے گئے بنوں میں زیرحراست دہشتگردکمانڈرکوچھڑانے کیلئے ساتھیوں نے سی ٹی ڈی ٹیم پر حملہ کردیا، جوابی کارروائی میں 2ہلاک
کوئٹہ،پشاور(کرائم رپورٹر ،سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے حملوں میں تعمیراتی کمپنیوں کیلئے کام کرنے والے 14مزدورں کو اغواکرلیاگیاجبکہ جوابی کارروائی میں 7حملہ آور مارے گئے ۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے عیشانی کے قریب ڈھولا ندی میں 25سے 30مسلح دہشت گرد کرش پلانٹ پر کام کرنے والے ضلع موسیٰ خیل کے تین مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ۔ دہشت گردوں نے ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کر کے تین اہلکاروں کو اغو ا کرکے ان سے اسلحہ بھی چھین لیا تاہم پولیس نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے اغو اکیے گئے تین پولیس اہلکاروں کو بازیاب کروا لیا ۔ ضلع خضدار کے علاقے مولہ میں تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے 11 مزدوروں کو 20سے زائد موٹرسائیکل سوار دہشت گردوں نے اغوا کیا ، اغوا ہونے والے مزدوروں میں چھ کا تعلق سندھ سے ہے اور وہ ورلڈ بینک کے ایک منصوبے کے تحت نالیوں کو پختہ کرنے کے کام میں مصروف تھے جبکہ اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ منیجر گل شیر، غلام سرور، عبدالمالک بگٹی، مولانا بخش، محمد عرفان اور اختیاربھی شامل ہیں ۔ مسلح افراد مولہ ٹاؤن بھی گئے اور وہاں کے پولیس تھانے سے اسلحہ لے جانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے اورفرار ہوگئے ۔
مزدوروں کی بازیابی کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیاگیا ہے ۔ ضلع پشین کے علاقے سرخاب مہاجر کیمپ کے قریب سی ٹی ڈی پر حملہ کرنیوالے 5دہشت گرد ہلاک ہوگئے ۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق مارے جانیوالے دہشتگرد پولیس لائن اور کیڈٹ کالج پر حملے کا منصوبہ بنارہے تھے ،دہشتگردوں کی گاڑی سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے ،دہشتگردوں کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پرانٹرسیپٹ کیاگیا تھا۔ہلاک دہشتگردوں میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا،جس نے فائرنگ کے تبادلے میں خود کو دھماکے سے اڑادیا۔ادھرصوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی کی تفتیشی ٹیم پر حملہ کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے ۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق تفتیشی ٹیم ایک زیرِ حراست دہشت گرد کو مختلف مقامات کی نشاندہی کیلئے لے جا رہی تھی کہ اسی دوران اس کے ساتھیوں نے حملہ کردیا،حملے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں زیرحراست دہشت گرد کمانڈر اسامہ عرف دانیال عرف باغی اور کامیاب خان عرف اخلاص یار ہلاک ہو گئے ۔سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا زیرِ حراست دہشت گرد شمالی وزیرستان میں اسسٹنٹ کمشنر پر ہونے والے حملے میں ملوث تھا اورنئی دہشت گرد تنظیم اتحاد المجاہدین پاکستان کا سرگرم رکن اور ماسٹر مائنڈ تھا ۔ ہلاک دہشت گرد سے ایک کلاشنکوف، دو میگزین، دو ہینڈ گرینیڈز برآمد ہوئے جبکہ دہشت گرد فرار ہوتے ہوئے زخمی ساتھیوں کو ساتھ لے گئے ۔