طالبان حکومت نے 9/11 سے پہلے جیسے حالات پیدا کر دیے ہیں: صدر مملکت
اسلام آباد: (دنیا نیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ طالبان حکومت نے 9/11 سے پہلے جیسے حالات پیدا کر دیے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت سے جاری اپنے ایک بیان میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی پر برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے، پاکستان کے حالیہ اقدامات عوام کے دفاع کے فطری حق کے تحت کئے گئے ہیں۔
اُنہوں نے8 فروری کو دیے گئے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بارہا دی گئی وارننگز کے نظرانداز کئے جانے کے بعد اٹھائے گئے، جب دہشت گرد گروہوں کو جگہ، سہولت یا استثنیٰ دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی موجودہ صورتحال پر سخت تحفظات رکھتا ہے، طالبان حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو 9/11 سے پہلے کے حالات جیسے یا اس سے بھی بدتر ہیں، یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ کابل میں قائم ڈی فیکٹو حکام افغان سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو سرگرم رہنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ نے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تصدیق کی ہے، رکن ممالک کی ایک بڑی تعداد مسلسل رپورٹ کر رہی ہے کہ دہشت گرد گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا اب بھی کر رہے ہیں، ان تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں، افغان حکام ان عناصر کے خلاف کوئی مؤثر، قابلِ تصدیق کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے ایک طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا،اپنی کارروائیوں کو سرحدی علاقوں کے قریب واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رکھا، پاکستان کو مکمل علم ہے کہ تشدد کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔
آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر ہماری پہنچ سے باہر نہیں رہیں گے، پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، امن انکار، دوغلے پن یا دہشت گردی کے خلاف عدم کارروائی پر قائم نہیں رہ سکتا، پاکستانی جانوں کا تحفظ اولین اور ناقابلِ سمجھوتہ ترجیح ہے۔