تازہ اسپیشل فیچر

امریکی حملوں میں نشانہ بننے والی اہم ایرانی شخصیات

لاہور: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی کم از کم 48 اہم شخصیات جان سے گئی ہیں، پوری ایرانی قیادت جا چکی ہے اور بہت سے لوگ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔

ایران کا سرکاری میڈیا دو روز میں کئی اہم حکومتی شخصیات کے جان سے جانے کی تصدیق کرتا رہا ہے، جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سرفہرست ہیں، چند بہت اہم حکومتی عہدیداروں اور شخصیات کا تعارف یہاں دیا جا رہا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اتوار کی صبح ملک کے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلی قیادت کے ہمراہ ہفتے کو ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے کی تصدیق کی تھی۔

نیوز ایجنسی کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور 14 سالہ پوتی بھی جان سے گئے۔

علی شمخانی

ایران کی دفاعی کونسل کے سیکرٹری اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے قریبی مشیر 70 سالہ علی شمخانی نے ایرانی جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی بھی نگرانی کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر مذاکرات کا اصل مسئلہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانا نہیں ہے تو یہ ایران کے رہنما کے جاری کردہ مذہبی فرمان اور ملک کے دفاعی نظریے کی تعمیل ہے اور ایک فوری معاہدہ ممکن ہے۔

علی شمخانی کو جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملے میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا، اس حملے میں ان کے مارے جانے کی اطلاعات تھیں لیکن بعد میں ان کے زندہ بچ جانے کی تصدیق کی گئی۔

انہوں نے 2023 تک ایک دہائی تک ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی قیادت بھی کی تھی، جبکہ سابق صدر حسن روحانی کے بعد کونسل کے لیے سب سے طویل عرصے ( 16 سال) تک خدمات سرانجام دینے والے بن گئے تھے۔

عبدالرحیم موسوی

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کے طور خدمات انجام دینے والے عبدالرحیم کو سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے گزشتہ سال جون میں ایران پر اسرائیل کے حملے کے چند دن بعد اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔

اس سے قبل وہ 2017 سے 2025 تک ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف رہ چکے ہیں۔

انہیں ایران کے بیلسٹک میزائلوں، ڈرون نظام اور مغربی تنقید کا نشانہ بننے والے خلائی لانچوں کی تیاری کے لیے کام کرنے والی ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

مارچ 2023 میں امریکہ نے یورپی یونین، برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر موسوی پر ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہونے پر پابندی عائد کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبدالرحیم موسوی کی کمان میں ایرانی فوج کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر نومبر 2019 میں مظاہرین پر مشین گنوں سے فائرنگ کی تھی، ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اچانک فیصلے کے بعد پورے ملک میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

عزیز ناصر زادہ

2024 کے انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی صدر مسعود پزشکیان کی حکومت میں وزیر دفاع کے طور پر کام کرنے والے عزیز ناصر زادہ ماضی میں ایرانی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف سٹاف تھے اور 2018 سے 2021 تک ایرانی فضائیہ میں کمانڈر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ناصر زادہ نے ایرانی فوجی اور جوہری ڈھانچے کی حفاظت کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

جون 2025 میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کی دھمکی دی تھی تو ناصر زادہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے پہلے حملہ کیا تو ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

جون 2025 کے حملوں کے بعد یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ وہ مارے گئے تھے جو بعدازاں غلط ثابت ہوئیں، ناصر زادہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات پر بھی کھل کر تنقید کرتے تھے۔

محمد پاکپور

جون 2025 سے اپنی موت تک پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف رہنے والے محمد پاکپور کو علی خامنہ ای نے ہی اس عہدے پر گذشتہ سال تعینات کیا تھا۔

ایک تجربہ کار کمانڈرکی حیثیت سے انہوں نے ایلیٹ فورس کے اندر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا، 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ جنگ کے دوران پاکپور پاسداران انقلاب کے بکتر بند یونٹوں اور پھر ایک جنگی ڈویژن کی قیادت کر چکے ہیں۔

پاکپور نے کمانڈر انچیف مقرر ہونے سے قبل 16 سال تک پاسداران انقلاب کی زمینی افواج کی قیادت کرنے کے علاوہ اسی کور میں آپریشنز کے نائب بھی رہے اور فورس کے دو بڑے ہیڈکوارٹرز کی قیادت بھی کرتے تھے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ تین رکنی کونسل، جس میں ایران کے صدر پزشکیان، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ رکن شامل ہیں، عارضی طور پر ملک میں تمام قیادت کے فرائض سنبھالے گی۔

گارڈین کونسل کے ایک مذہبی رہنما علی رضا اعرافی کو ایران کی لیڈرشپ کونسل میں تعینات کیا گیا ہے، جنہیں نئے رہنما کا انتخاب تک سپریم لیڈر کے کردار کو پورا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔