غزوہ احد ۔۔۔ معرکہ حق و باطل
لاہور: (مولانا قاری محمد سلمان عثمانی) جنگ اُحد 7 شوال 3ھ میں مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان اُحد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی، مسلمانوں کی قیادت نبی کریمﷺ نے کی جبکہ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی (وہ اس وقت حالت کفر میں تھے) اور انہوں نے تین ہزار سے زائد مشرکین کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔
غزوہ بدر میں مسلمانوں کو شاندار فتح ہوئی تھی، اس کے بعد قریش مکہ اور یہودیوں کو اندازہ ہوا کہ اب مسلمان ایک معمولی قوت نہیں رہے، شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نہایت غصے میں تھے اور نہ صرف اپنی ناکامی کا بدلہ لینا چاہتے تھے بلکہ ان تجارتی راستوں پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے تھے جن کی ناکہ بندی مسلمانوں نے غزوہ بدر کے بعد کر دی تھی، جنگ کے شعلے بھڑکانے میں حضرت ابوسفیانؓ، ان کی بیوی ہندہ (جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا) اور ایک یہودی کعب الاشرف کے نام نمایاں ہیں، ہندہ نے اپنے گھر محفلیں شروع کر دیں، جس میں اشعار کی صورت میں جنگ کی ترغیب دی جاتی تھی۔
حضرت ابو سفیان نے غزوہ احد سے کچھ پہلے مدینہ کے قریب ایک یہودی قبیلہ کے سردار کے پاس کچھ دن رہائش رکھی تاکہ مدینہ کے حالات سے مکمل آگاہی ہو سکے، ابوجہل غزوہ بدر میں مارا گیا تھا جس کے بعد قریش کی سرداری ابوسفیان کے پاس تھی جس کی قیادت میں ایک اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جنگ کی تیاری کی جائے، اس مقصد کیلئے مال و دولت بھی اکٹھا کیا گیا، جنگ کی بھر پور تیاری کی گئی، تین ہزار سے کچھ زائد سپاہی جن میں سے 700 زرہ پوش تیار کئے گئے، ان کے ساتھ 200 گھوڑے اور 300 اونٹ بھی تیار کیے گئے، کچھ عورتیں بھی ساتھ گئیں جو اشعار پڑھ پڑھ کر مشرکین کو جوش دلاتی تھیں۔
حضرت ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے یہ ارادہ کیا کہ حضورﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبائے گی، اس مقصد کیلئے اس نے حضرت حمزہؓ کے قتل کیلئے اپنے ایک غلام کو خصوصی طور پر تیار کیا۔
بالآخر یہ فوج مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے روانہ ہوئی، نبی کریمﷺ کے چچا حضرت عباسؓ نے جو مکہ ہی میں رہتے تھے، آپﷺ کو مشرکین کی سازش سے آگاہ کر دیا تھا، حضورﷺ نے انصار و مہاجرین سے مشورہ کیا کہ شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے یا باہر جا کر جنگ لڑی جائے، فیصلہ دوسری صورت میں ہوا یعنی باہر نکل کر جنگ لڑی جائے چنانچہ 6 شوال کو نمازِ جمعہ کے بعد حضورﷺ نے صحابہ کرامؓ کو استقامت کی تلقین کی اور ایک ہزارکی فوج کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوگئے، اشواط کے مقام پر ایک منافق عبداللہ بن ابی 300 سواروں کے ساتھ جنگ سے علیحدہ ہوگیا اور بہانہ یہ بنایا کہ جنگ شہر کے اندر رہ کر لڑنے کا اس کا مشورہ نہیں مانا گیا۔
ہفتہ 7 شوال 3ھ کو دونوں فوجیں اُحد کے دامن میں آمنے سامنے آ گئیں، اُحد کا پہاڑ مسلمانوں کی پشت پر تھا، وہاں ایک درہ پر حضورﷺ نے حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کی قیادت میں 50 تیر اندازوں کو مقرر کیا تاکہ دشمن اس راستے سے میدانِ جنگ میں نہ آ سکے، جنگ کا آغاز مشرکین کی طرف سے ہوا جب ابوعامر نے تیر اندازی کی، اس مرحلہ پر نو مشرکین آئے جو سب قتل ہوگئے، دوسرے مرحلے میں مشرکین مکہ نے اکٹھا بھرپور حملہ کر دیا اس دوران ان کی کچھ عورتیں ان کو اشعار سے اشتعال دلا رہی تھیں تاکہ وہ غزوہ بدر کی عبرتناک شکست کا داغ دھو سکیں۔
ابتداء کی زبردست جنگ میں مسلمانوں نے مشرکین کے کئی لوگوں کو قتل کیا جس پر مشرکین فرار ہونے لگے، مسلمان یہ سمجھے کہ وہ جنگ جیت گئے ہیں چنانچہ درہ عینین پر تعینات صحابہ کرامؓ نے حضورﷺ کی یہ ہدایت فراموش کر دی کہ درہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا اور درہ چھوڑ کر میدان میں مالِ غنیمت اکٹھا کرنا شروع کر دیا صرف 10 افراد درہ پر رہ گئے۔
حضرت خالد بن ولید (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے موقع غنیمت جانتے ہوئے کوہِ احد کا چکر لگا کر درہ پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں پر یکدم پیچھے سے وار کر دیا اسی اثناء میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت محمدﷺ شہید کر دیئے گئے ہیں، یہ سن کر اکثر صحابہ کرامؓ نے ہمت ہار دی، کچھ لوگ میدان جنگ چھوڑ گئے اور تیسرے دن واپس آئے کچھ ارد گرد کی پہاڑیوں پر چڑھ گئے کچھ لوگوں نے یہ سوچا کہ حضورﷺ کے بعد زندگی کسی کام کی نہیں، کچھ لوگ حضورﷺ کے ساتھ رہ گئے اور ان کی بھر پور حفاظت کی۔
اس موقع پر حضوراکرمﷺ نے حضرت علیؓ کو ایک تلوار بھی عنایت کی جو ’’ذوالفقار‘‘ کے نام سے مشہور ہے، اس دوران حضوراکرمﷺ کے دانت مبارک شہید ہوئے، حضرت حمزہؓ بھی شہید ہوگئے، اس بارے میں اللہ نے قران میں فرمایا ’’جب تم (افراتفری کی حالت میں) بھاگے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول اس جماعت میں (کھڑے) جو تمہارے پیچھے (ثابت قدم) رہی تھی تمہیں پکار رہے تھے، پھر اس نے تمہیں غم پر غم دیا (یہ نصیحت و تربیت تھی) تاکہ تم اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہا اور اس مصیبت پر جو تم پر آن پڑی رنج نہ کرو، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے‘‘ (آل عمران:153)۔
کچھ وقفے کے بعد صحابہ کرامؓ میدان میں واپس آنا شروع ہوگئے، چونکہ مشرکین اپنے بھاری سامانِ جنگ مثلاً زرہ بکتر کی وجہ سے اُحد کے پہاڑ پر چڑھ نہ سکے اس لیے کئی مسلمانوں کی جان بچ گئی، حضرت ابوسفیان کی بیوی ہندہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگوں نے مسلمان شہداء کے ناک اور کان کاٹے اور ہندہ نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ نکال کر چبایا، جس کا حضور اکرمﷺ کو بے حد رنج رہا، کچھ مسلمانوں کے واپس آنے کے بعد مشرکین نے مکہ کی طرف واپسی اختیار کی۔
جبل اُحد یہ وہ مقدس پہاڑ ہے جس کے متعلق حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اُحد ایک شان والا پہاڑ ہے، جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت کرتے ہیں (صحیح بخاری: 4084)، اس غزوہ میں بہت سی مسلم خواتین نے بھی شرکت کی، حضرت عائشہؓ اور حضرت انسؓ کی والدہ حضرت ام سلیمؓ نے زخمیوں کو پانی پلانے کا فریضہ سرانجام دیا، وہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پلاتی تھیں، مشک خالی ہوجاتی تو پھر بھر لاتیں، ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابوسعید خدریؓ کی والدہ حضرت ام سلیطؓ نے یہی خدمت انجام دی۔
اس جنگ میں ستر(70) مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، جن میں زیادہ تر انصار تھے، مسلمانوں کی مالی حالت اس قدر ابتر تھی کہ اتنا کپڑا بھی نہ تھا کہ شہداء کی پردہ پوشی ہو سکتی، حضرت مصعب بن عمیرؓ کا پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے، آخر پاؤں اذخر کی گھانس سے چھپا دئیے گئے۔
مولانا محمد سلمان عثمانی ختم نبوت اسلامک سنٹر کے ناظم ہیں، ان کے مضامین بیشتر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔