تازہ اسپیشل فیچر

منفی تجزیے یا قومی نقصان؟ یو اے ای سے 20 لاکھ پاکستانیوں کا سوال

دبئی: (سید مدثر خوشنود) گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا اور بعض پاکستانی پلیٹ فارمز پر متحدہ عرب امارات کے بارے میں ایک ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جیسے یہاں نظام کمزور پڑ چکا ہو، معیشت آخری سانسیں لے رہی ہو، یا معمولاتِ زندگی شدید بحران کا شکار ہوں، یہ اندازِ بیان نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ حقائق سے بھی مطابقت نہیں رکھتا، زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ سنجیدہ تجزیے کے بجائے سنسنی کو ترجیح دے رہے ہیں، حالانکہ یو اے ای جیسے اہم ملک کے بارے میں غیر متوازن رائے صرف ایک میڈیا غلطی نہیں بلکہ ایک وسیع تر نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای میں ریاستی نظم و نسق پوری فعالیت کے ساتھ کام کر رہا ہے، بنیادی خدمات، بشمول بجلی، پانی، صحت، ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیاں، ہوائی اڈے، ہوٹل، تجارتی مراکز اور مارکیٹیں معمول کے مطابق فعال ہیں، خطے میں تناؤ یا دباؤ کی فضا اپنی جگہ موجود ہو سکتی ہے، مگر کسی بھی دباؤ کو مکمل انہدام یا ریاستی کمزوری کی علامت بنا دینا سنجیدہ صحافت نہیں، مضبوط ریاستوں کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ شور سے نہیں، نظام سے اپنا جواب دیتی ہیں، اور یو اے ای نے ایک مرتبہ پھر یہی ثابت کیا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یو اے ای کی اہمیت محض ایک دوست ملک کی نہیں بلکہ ایک ایسے قابلِ اعتماد معاشی اور انسانی شراکت دار کی ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کئی سطحوں پر جڑے ہوئے ہیں، لاکھوں پاکستانی یہاں روزگار حاصل کر رہے ہیں، اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں، اور پاکستان کی معیشت میں خاموش مگر فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں، ایسے میں یو اے ای کے بارے میں بے بنیاد خوف یا منفی پروپیگنڈا پھیلانا دراصل انہی پاکستانیوں کے ذہنی سکون، روزگار اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگانے کے مترادف ہے۔

یہ امر بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کو ہمیشہ جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا، اگر یو اے ای کسی مرحلے پر پاکستان سے اپنے فنڈز، قرض یا مالی ذمہ داریوں کے حوالے سے واپسی یا وضاحت کا تقاضا کرتا ہے تو اسے غیر معمولی بحران یا ناراضی کا عنوان دینا درست نہیں، ریاستوں کے درمیان مالی معاملات نظم، اعتماد، معاہدات اور ذمہ داری کے تابع ہوتے ہیں، جب ایک ملک مشکل وقت میں تعاون کرتا ہے تو اس تعاون کی واپسی یا اس سے متعلق مالی تقاضا بھی ایک فطری عمل ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو منفی رنگ دینا سفارتی سنجیدگی کے خلاف ہے۔

یو اے ای میں پاکستانی کمیونٹی کی موجودگی اس معاملے کو مزید حساس بناتی ہے، یہاں پاکستانی برادری ایک فعال، باوقار اور اہم کمیونٹی کے طور پر جانی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یو اے ای کے بارے میں غلط تاثر، غیر ضروری خوف یا افواہ پر مبنی تجزیہ سب سے پہلے انہی لوگوں کو متاثر کرتا ہے جو برسوں کی محنت سے یہاں اپنی جگہ بنا چکے ہیں، ذمہ دار صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ خبر یا تجزیے کے اثرات کو بھی سمجھا جائے۔ ہر بات کو بحران، ہر دباؤ کو تباہی، اور ہر معاشی سوال کو سیاسی دشمنی قرار دینا پیشہ ورانہ صحافت کے معیار کو کمزور کرتا ہے۔

موجودہ حالات میں یو اے ای نے جو طرزِ عمل اختیار کیا ہے، وہ ادارہ جاتی استحکام، حکمت اور تحمل کا مظہر ہے، دفاعی نظام کی فعالیت، عوامی نظم و ضبط کی برقرار ی، اور غیر ضروری خوف و ہراس کو پھیلنے سے روکنا اس حقیقت کی دلیل ہے کہ یہاں ریاستی ادارے صرف موجود نہیں بلکہ مؤثر بھی ہیں، یہی فرق ایک منظم ریاست اور ایک غیر منظم معاشرے میں واضح ہوتا ہے۔

معاشی میدان میں بھی تصویر اتنی منفی نہیں جتنی بعض حلقے پیش کر رہے ہیں، یہ درست ہے کہ علاقائی کشیدگی کے اثرات تجارت، سیاحت، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کی رفتار پر پڑ سکتے ہیں، لیکن دباؤ اور زوال ایک ہی چیز نہیں ہوتے، یو اے ای کا ماڈل اس بنیاد پر کھڑا ہے کہ وہ بحران میں ردعمل دینے، پالیسی میں لچک پیدا کرنے، اور نظام کو متوازن رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے وقتی دباؤ کو مکمل معاشی انہدام کے طور پر پیش کرنا حقیقت سے زیادہ جذباتی بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے کچھ حلقے بیرونی میڈیا کے سنسنی خیز بیانیوں کو بغیر جانچے پرکھے یہاں دہرانے لگے ہیں، یہ رجحان صحافت کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور قومی مفاد کے لیے بھی۔ صحافت سوال ضرور اٹھاتی ہے، مگر سوال اور سنسنی میں واضح فرق ہوتا ہے، سوال روشنی ڈالتا ہے، جب کہ سنسنی دھند پیدا کرتی ہے، ذمہ دار صحافت حقائق کو ترتیب دیتی ہے، خوف کو نہیں بیچتی۔

پاکستانی میڈیا، پالیسی سازوں اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے حلقوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یو اے ای کے ساتھ تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ معاشی، انسانی، تزویراتی اور سماجی بنیادوں پر بھی نہایت اہم ہیں، اس رشتے کے بارے میں غیر محتاط گفتگو دراصل اپنے ہی مفادات کو کمزور کرنے کے مترادف ہو سکتی ہے۔ اسی لیے یہ وقت بلند آہنگ تبصروں کا نہیں بلکہ متوازن فہم، گہرے مطالعے اور ذمہ دارانہ رائے کا ہے۔

اگر اس پورے منظرنامے سے ایک سبق اخذ کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ بحران کے وقت ریاستیں نعروں سے نہیں بلکہ نظم، صبر، ادارہ جاتی طاقت اور اجتماعی اعتماد سے مضبوط رہتی ہیں۔ یو اے ای نے ایک مرتبہ پھر یہی دکھایا ہے کہ استحکام محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک عملی صلاحیت بھی ہوتا ہے۔

آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ اس خطے کو اس وقت شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے؛ خوف نہیں، فہم کی ضرورت ہے؛ اور پروپیگنڈا نہیں، ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت ہے۔

دعا ہے کہ یو اے ای محفوظ رہے، پاکستان محفوظ رہے، اور اوورسیز پاکستانی عزت، سکون اور اعتماد کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہیں۔ یہی خطے کے امن، ترقی اور بہتر مستقبل کی اصل بنیاد ہے۔