"RBC" (space) message & send to 7575

پھلتا پھولتا کاروبار

دورِ جدید میں کاروباروں کی نوعیت بدل چکی ہے اور ان کا دائرہ کار اب چیزوں کی خرید و فروخت‘ صنعت کاری اور ساز وسامان کی ترسیل اور دکانداری تک محدود نہیں۔ اب گھر بیٹھے لیپ ٹاپ اور فون کے ذریعے دنیا کے ہر کونے میں ماہرین اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ اس وقت میرے ذہن میں یہ کاروبار نہیں بلکہ ایک بہت پرانا دھندہ ہے جو وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی کے استعمال سے کئی نئی جہتیں اختیار کر چکا ہے۔ پیری فقیری‘ سادھو‘ درویش اور جوگیوں کے لباس میں پُراسرار لوگ صدیوں سے عام لوگوں خصوصاً دیہاتیوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ بچپن میں مجھے یاد ہے کہ خلیجی ریاستوں کے لوگ ایک پیر اور ایک خلیفہ کی صورت ہمارے دور دراز کے علاقوں میں گرمیوں کے علاوہ باقی سب موسموں میں ہمیں دعائیں دینے کے لیے آتے تھے۔ چند برس کا تھا کہ ٹانگوں میں شدید درد رہتا تھا۔ ان صاحب کو ہم عربی کہا کرتے تھے‘ وہ اپنے مخصوص لباس میں ہمارے ہاں سال میں ایک مرتبہ قیام کرتے تو سب ہم اپنی بیماریوں کا علاج ان کے تعویذ دھاگوں کی مدد سے کیا کرتے تھے۔ اس طرح ہمارے ملک کے کچھ علاقوں میں جعل ساز گھوڑوں پر بیٹھ کر اور پارسائی کا لبادہ اُوڑھ کر دیہات میں فصلوں کی کٹائی کے وقت آ جاتے۔ غریب کاشتکار اپنا پیٹ کاٹ کر غلے سے ان کی بوریاں بھر دیتے۔ یہ تو چلتے پھرتے پیر تھے مگر مقیم درگاہی پیروں کے درباروں میں روزانہ سینکڑوں اور ہزاروں‘ ان کے مقام اور شہرت کے مطابق حاضری دیتے اور اپنی جیبیں خالی کر کے واپس آ جاتے۔ کچھ گلوں میں تعویذ‘ رنگ برنگے دھاگے اور ہاتھوں میں تبرکات جو ساتھ ہی دکانوں سے دستیاب ہوتے‘ پہن کر درگاہی کاروبار کو نجانے کب سے رونق بخشے ہوئے ہیں۔ ہمارا بھی اکثر ایسی درگاہوں پر جانا رہتا ہے اور اکثر ہم سجا میلہ دیکھتے گزر جاتے ہیں۔ ان کے ثقافتی رنگوں میں جھانک کر دیکھیں تو بہت پُرکشش نظارے آپ کو ملیں گے مگر ہم ان کے بارے میں کچھ لکھ نہیں سکتے۔ ان کی ظاہری ثقافت‘ ناچ گانے‘ دھمال اور میلے ہم جیسے سب تماش بینوں کے لیے تفریح کا سامان ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی سماجی حیثیت اور ہمارے ملک کی لوک ثقافت میں اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
درگاہی ثقافت کے پیچ وخم بہت گنجلک ہیں۔ اس لیے ان کی علمی‘ فکری اور تہذیبی روایات کے بارے میں کچھ کہنا ہم اس شعبے کے ماہرین پر چھوڑتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد صرف یہ ہے کہ پیری فقیری کا سلسلہ جو پہلے ملک کی مشہور درگاہوں‘ گدی نشینوں اور طاقتور مخدوموں تک محدود تھا اب ان کی دیکھا دیکھی ملک بھر میں پھیلتا نظر آ رہا ہے۔ آپ نے ایک حضرت‘ جنہیں کچھ صحافی بھائی شف شف سرکار کہتے ہیں‘ کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا۔ اگر نہیں تو پھر نجانے آپ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ ایک مشہور و معروف صحافی نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ ان کا ایک ناہنجار مرید انہیں سات کروڑ کا ٹیکہ لگا کر غائب ہو گیا ہے۔ اُس نے پیر صاحب سے یہ رقم کسی کاروبار میں لگانے کے لیے ہتھیائی تھی۔ آخری خبریں آنے تک اس کا کہیں پتا نہیں چلا‘ یاکم از کم ان کے قابو میں نہیں آ سکا۔ ابھی ان کی شہرت عام نہیں ہوئی تھی اور منہ پر جوانی کے آثار بھی نمودار نہیں ہوئے تھے کہ ان کا ایک امیر مرید جو میرے جاننے والوں میں سے تھا‘ مجھے چائے کہ ایک کپ پر ان کی کرامات اور فضائل ودرجات پر قائل کرنے کے لیے ایسے شواہد اور دلائل دیتا کہ مجھے زمین پر فرشتوں کا گمان ہونے لگتا۔ ہم جیسے شکی مزاج بھلا کیا کہہ سکتے تھے۔ ہر کاروبار کا آغاز تشہیر سے ہوتا ہے۔ پرانے وقتوں میں دیہاڑی دار عقیدت مند مختلف علاقوں میں پھیلا دیے جاتے جو مختلف رنگوں میں ملبوس سرکاروں کے کرشمے اور کرامات لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ ان کی نظریں ہمیشہ بیمار‘ عمر رسیدہ‘ ان پڑھ اور غریب لوگوں پر ہوتی تھیں کہ کسی طرح انہیں گھیر گھار کر اپنی سرکار کے سامنے پیش کریں کہ آخر کچھ دے کر ہی واپس آئیں گے۔
اپنے جنگل کی نگہبانی کے لیے میرے پاس ایک آدمی ملازمت کے لیے آیا اور اپنا نام پہلوان بتایا۔ نام‘ جسامت اور قامت اس کے رعب ودبدبے کی اتنی بڑی گواہی دے رہی تھی کہ اسے بغیر مزید کچھ پوچھے رکھ لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حالت تو بدلتی رہی مگر میرا جنگل ویسی ہی کسمپرسی کا شکار رہا جو اس کے آنے سے پہلے تھا۔ دو تین مسٹنڈے اس کے آس پاس منڈلاتے رہتے اور ایک دو اس کے پاس قیام کرتے۔ آخر ایک دن گھر سے چلتے وقت فیصلہ کر لیا کہ پہلوان سے بغیر کوئی کشتی لڑے‘ اُسے نکال کر واپس آنا ہے۔ پیار محبت سے بلایا‘ بسکٹ کھلا کے چائے پلائی اور کہا اب اپنا سامان لے آئو۔ پھر اسے باہر سڑک کی طرف اشارہ کر دیا۔ کچھ دن گزرے تو دو خواتین ادھر آ نکلیں اور پہلوان سرکار سے دم کروانے کی درخواست کی۔ دو چار دن بعد ایک بزرگ ہاتھ میں سبز رنگ کی پانی کی بوتل لیے دم کرانے آئے اور کہا کہ جسم میں بہت کھجلی ہوتی ہے اور پہلوان سرکار اس مرض کا کامیاب علاج کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ دو تین مسٹنڈے قرب وجوار کے ڈھابوں پر بیٹھ کر پہلوان سرکار کی کرامات بتاتے رہتے تھے۔
جنگل میں ہمیشہ اپنے ہاتھ میں ایک مضبوط ڈنڈا ضرور ہوتا ہے تاکہ کتوں اور کچھ انسانوں سے حفاظت کا قابلِ بھروسہ ہتھیار اپنے پاس ہو۔ قریب ہی کسی کا ملازم لاٹھی ہاتھ میں دیکھتے گمان کرنے لگا کہ شاید مجھے چلنے پھرنے میں کوئی تکلیف ہے اور میں لاٹھی کا سہارا لیتا ہوں۔ ایک دن میرے ساتھ بیٹھ گیا اور محبت اور رازداری کے ساتھ میرے علاج کے لیے دم کرنے اور پانی پر کچھ پڑھ کر پھونکنے کی پیشکش کی اور کہا کہ اس کے بعد چلنے کے لیے لاٹھی کی ضرورت کبھی نہیں رہے گی۔
جس علاقے میں آج کل قیام ہے یہاں تو یہ کاروبار دیگر جدید شعبوں کی طرح زور پکڑتا نظر آ رہا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک بڑے دربار کے قریب سے گزر ہوا تو وہاں کئی بسیں عورتوں‘ بچوں اور ہر عمر کے لوگوں سے بھری ہوئی تھیں جو زیارت کے لیے دور دراز کے علاقوں سے آئے تھے۔ کئی دفعہ اس کے اندر بھی جانے کا موقع ملا ہے۔ ایک زمانے میں ہمارے اپنے پہلوان سرکار سے تین گنا بھاری بھرکم پہلوان خالص دودھ کی کھیر کے بڑے تھالوں میں گھرا بیٹھا‘ نیازیں وصول کرتا تھا۔ یہ نظارے آپ ہر درگاہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ مفت خوری‘ کرپشن اور جعل سازی پہلے سے کہیں زیادہ پھیل چکی ہے۔ گئے گزرے علاقوں میں قبرستان ہمارے بچپن میں ویران تھے اور لوگ بھوت پریت کا گمان کر کے دور سے گزر جاتے تھے۔ اب وہاں بھی پہلوان سرکاروں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ دیکھنے میں تو یہ عجیب بات ہے مگر اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ اکثر ایسے دربار یا تو سڑکوں اور گزرگاہوں کے کنارے ہیں یا پھر ان شہروں اور قصبوں میں جو دریائوں کے زیادہ قریب ہیں۔ لوگوں کی آمد ورفت اور زرعی پیداوار کے وسائل نزدیک ہوں تو درگاہوں کی رونق میں بھلا اضافہ کیوں نہیں ہوگا۔ اب مشہوری کے لیے پہلوان سرکار کے مسٹنڈوں کی جگہ جدید تکنیک اور مواصلاتی ذرائع نے لے لی ہے۔ بڑی سرکار مخصوص رنگ کی دستار اور رنگین لاٹھی کے ساتھ مریدوں کے جھرمٹ کے آگے چلتے ہیں۔ درباری عقیدت مند فرطِ جذبات میں چھلانگیں لگاتے نعرہ زن ہو کر جو منظر پیش کرتے ہیں وہ اپنے تاثر میں کسی جادوگری سے کم نہیں۔ انگریز حکومت جب ایسی سرکاروں کی عوامی جادوگری سے قائل ہو کر انہیں جاگیریں عطا کر سکتی ہے تو ہم کیوں نہ ایسے پھلتے پھولتے کاروبار کی تعریف کریں۔ دعا ہے کہ سب سرکاریں خوشحال ہوں اور عوام ان کی خوشحالی کے نشے میں چین کی بانسری بجاتے رہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں