تازہ اسپیشل فیچر

عید کے بعد حکومت کے تین امتحان

عید کے بعد حکومت کے تین امتحان

خصوصی تحریر

سب سے پہلے معاشی معاملے کی بات کر لیتے ہیں، آئندہ چند روز میں وفاقی بجٹ منظور کر لیا جائے گا اور یکم جولائی سے نئے بجٹ کا باقاعدہ اطلاق ہوگا جس کے ساتھ ہی 3800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز کا بوجھ عملی طور پر عوام پر پڑے گا، آئی ایم ایف کی شرائط پر تیار ہونے والے اس بجٹ کے منظور ہونے کے بعد پاکستان کا مڈل کلاس طبقہ ٹیکسوں کے مزید بوجھ تلے پس کر رہ جائے گا۔

اس بجٹ کو ٹیکسوں کا بجٹ کہا جا رہا ہے جہاں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑے پیمانے پر ٹیکس عائد کئے گئے ہیں، حکومت کی جانب سے گزشتہ مالی سال کی نسبت 38 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کا مقصد تو اپنے محصولات بڑھانا اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے اقدامات کرنا ہے مگر عام آدمی اس مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ جائے گا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لیوی کو 60 روپے سے بڑھا کر 80 روپے کرنے کا فیصلہ آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرے گا جس سے ملک میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے، پٹرولیم لیوی بڑھنے سے عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی گرتی ہوئی قیمتوں کے اثرات بھی عام آدمی تک نہیں پہنچ سکیں گے تاہم حکومت اس بوجھ کو فوری طور پر عوام پر منتقل کرنے کی بجائے آئندہ مالی سال کے دوران مرحلہ وار منتقل کرے گی۔

دوسری جانب نیپرا نے حکومتی درخواست پر بجلی کے بنیادی ٹیرف میں پانچ روپے بہتر پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے، اسے بھی حکومت ایک سے زائد مراحل میں صارفین کو منتقل کرے گی، اس میں اضافہ پہلے سے مہنگی بجلی کو مزید مہنگا کر دے گا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے مگر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی گئی ہے جبکہ نجی شعبے کے ملازمین کو تو صرف ٹیکس میں اضافے کی صورت میں تنخواہ میں کٹوتی ملی ہے اور ان کی قوتِ خرید مزید کم ہونے جا رہی ہے۔

تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ریٹیلرز یہ اضافی شرح بھی صارفین کو منتقل کریں گے اور عام آدمی کو اس ٹیکس کیلئے اضافی رقم ادا کرنا پڑے گی، اس کے علاوہ جنرل سٹورز کی پیکڈ آئٹمز پر بھی ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے، یوں مہنگی توانائی اور ٹیکسوں کی بھرمار کے باعث مہنگائی کا ایک نیا طوفان آتا دکھائی دے رہا ہے۔

حکومتی ناقدین کا خیال ہے کہ اس صورتحال میں امکانات موجود ہیں کہ اگست کے بعد حکومت کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا ساتھ دینے کیلئے تیار نظر نہیں آتی۔

سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی بھی اگست میں اپنی پارٹی کو احتجاج کی کال دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کے ذریعے لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں، ایسے میں مہنگائی کی صورتحال تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

سیاسی منظر نامے پر اثر انداز ہونے والا دوسرا انتہائی اہم فیکٹر عدالتی محاذ ہے جہاں تیس کے لگ بھگ کیسز ایسے ہیں جن کے فیصلے حکومت کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، سب سے اہم آئینی کیس سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق ہے جسے سپریم کورٹ آف پاکستان کا 13 رکنی بنچ سُن رہا ہے، اس کیس میں یہ طے ہونا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو ملنی ہیں یا نہیں؟

اگر یہ نشستیں حکمران اتحاد کو نہیں ملتیں تو ان کا دو تہائی اکثریت کا خواب چکنا چور ہو جائے گا اور حکومت آئینی ترامیم کرنے کی طاقت حاصل نہیں کر پائے گی، جس سے مستقبل میں ایک اہم فیصلہ جڑا ہے، حکومت کیلئے بانی پی ٹی آئی اور ان کا بیانیہ مسلسل درد سر ہے، آنے والے مہینوں میں انہیں جیل میں لمبے عرصے کیلئے رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکا کی عدالت کو بانی پی ٹی آئی کی عدت کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر دس روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، یہی واحد کیس ہے جس میں بانی پی ٹی آئی گرفتار ہیں، اب سے کچھ عرصہ قبل تک بانی پی ٹی آئی پانچ کیسز میں گرفتار تھے، سب سے اہم اور تگڑے کیس، سائفر میں برَی ہو چکے ہیں، توشہ خانہ نیب ریفرنس اور توشہ خانہ فوجداری کیسز میں بھی سزائیں معطل ہو چکی ہیں۔

القادر ٹرسٹ کیس میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے البتہ عدت کیس میں رہائی کی صورت میں انتظامیہ نے ان کے خلاف دو نئے کیسز تیار کر رکھے ہیں، بانی پی ٹی آئی فوری طور پر تو باہر آتے دکھائی نہیں دے رہے مگر ان کے خلاف مقدمات میں ایک کے بعد ایک ریلیف حکومت کیلئے مشکلات ضرور پیدا کرتا جا رہا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ججز کے خلاف مہم سے متعلق توہین عدالت کی کارروائیاں بھی ان دنوں زیر التوا ہیں، الیکشن ٹریبونل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی پٹیشن پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے، اس کیس میں یہ طے ہونا ہے کہ الیکشن ٹریبونل میں ججز کی تقرری الیکشن کمیشن کا اختیار ہے یا ہائیکورٹس کا جبکہ الیکشن ٹریبونلز سے متعلق آرڈیننس کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، جس سے متعلق فیصلہ انتخابی دھاندلی سے متعلق کیسز کے مستقبل پر اثر انداز ہوگا، عدالتی محاذ پر ان آئینی اور قانونی معاملات کا سامنا حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف امید لگائے بیٹھی ہے کہ امریکا میں آنے والے صدارتی انتخابات کے نتائج پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہوں گے، ان کے مطابق صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اگر صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو انہیں نئی امریکی انتظامیہ سے مدد مل سکتی ہے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی شخصیات یہ سمجھتی ہیں کہ امریکی انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں اس کے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر اثرات نہیں پڑیں گے، ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ ٹرمپ کی جیت کی صورت میں وہ بانی پی ٹی آئی یا ان کی جماعت کے ریلیف کیلئے پاکستانی انتظامیہ پر اثر انداز ہوں۔