شہرِ اقتدار میں ہلچل کیوں؟
خصوصی تحریر
ان کے بیان کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل مچ گئی، محسن نقوی کے اندازِ گفتگو اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر زور دینے کی مختلف تشریحات سامنے آئیں، بعض حلقوں نے اسے مقتدرہ کا پیغام قرار دیا اور کہا کہ نئے صوبوں کے قیام اور نظام کی تبدیلی کا فیصلہ ہو چکا ہے جبکہ بعض مبصرین کے مطابق یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے تھی، کچھ سیاسی تجزیہ کاروں نے خیال ظاہر کیا کہ مقتدرہ اور حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور ون پیج کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔
محسن نقوی کی گفتگو صرف نئے صوبوں کے قیام تک محدود نہیں تھی انہوں نے تین ایسے نکات پر بھی بات کی جو مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں سے متعلق سمجھے جاتے ہیں، وزیراعظم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ روزانہ 14 گھنٹے کام کرتے ہیں تو 18 گھنٹے کام کرنے کے باوجود بھی حالات بہتر نہیں ہوں گے، انہوں نے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور وظائف فراہم کرنے کی پالیسی کو بھی غیر مؤثر قرار دیا اور کہا کہ جس دن نوجوان متحد ہوگئے وہ ہر چیز بدل سکتے ہیں۔
بنیادی طور پر انہوں نے حکومت کو عام شہری کو ڈیلیور نہ کرنے کا طعنہ دیا، وزیرِ داخلہ نے کہا کہ آپ مانیں یا نہ مانیں ملک جس نظام کے تحت چل رہا ہے وہ گر چکا ہے اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس کے قیام میں ہے، گزشتہ 70 سے 80 برسوں سے مسائل وہی ہیں، اگر نظام میں تبدیلی نہ آئی تو آئندہ دس سال بعد بھی ایسی ہی تقاریر سننے کو ملیں گی، جب تک موجودہ نظام کو ری سیٹ نہیں کیا جائے گا معاملات صرف وقتی اقدامات تک محدود رہیں گے، نئے انتظامی یونٹس ہوں یا انہیں کوئی اور نام دیا جائے، یہ کام کرنا ہی ہوگا، اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا چاہے اس میں ایک مہینہ لگے یا ایک سال۔ وزیر داخلہ نے اشارہ دیا کہ اس نظام کو سیاستدان مل بیٹھ کر ٹھیک کر لیں ورنہ نوجوان جنہیں کاکروچ کہا جا رہا ہے اگر اکٹھے ہوگئے تو سب الٹ دیں گے۔
ملک کے وزیر داخلہ جنہیں مقتدرہ کا انتہائی قریبی سمجھا جاتا ہے، کی جانب سے یہ الفاظ غیر معمولی اور معنی خیز ہیں، اگرچہ موجودہ نظام پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری رہتا ہے تاہم سیاسی طوفان اس وقت برپا ہوا جب ملک کی ایک اہم وزارت کے سربراہ نے نہ صرف موجودہ نظام کو ناکام قرار دیا بلکہ مستقبل میں نظام کی ممکنہ تبدیلیوں کا عندیہ بھی دیا،محسن نقوی کے بیان کے بعد مسلم لیگ (ن)کے حامی حلقوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ سوال اٹھایا کہ محسن نقوی خود اسی نظام کے بینیفشری ہیں اگر وہ موجودہ نظام اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو پھر اسی نظام کا حصہ کیوں ہیں؟
خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ اور احسن اقبال نے ابتدائی ردعمل دیا، لیگی قیادت کی جانب سے کہا گیا کہ ایسے اہم معاملات پر بحث پارلیمنٹ جیسے فورم پر ہونی چاہیے تھی، اگر نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز متعلقہ وزارتوں سے ہونا چاہیے مگر اصل ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آسکا جو حکومت، حکومتی جماعت کے بڑوں کی جانب سے آسکتا تھا یعنی (ن)لیگ اور اس کی قیادت کی جانب سے حیران کن طور پر گریز کا مظاہرہ کیا گیا کیونکہ (ن)لیگی قیادت ماضی میں طاقتور حلقوں کی تنقید بھی برداشت نہیں کیا کرتی تھی، اس مرتبہ محسن نقوی کے بیان کو بھی کڑوا گھونٹ سمجھ کر پینا پڑا اور لیگی رہنماؤں کو مزید ردعمل دینے سے روک دیا گیا۔
وزیرِ داخلہ کے خطاب کے 24 گھنٹوں بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران صورتحال پر مزید روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے اچھی حکمرانی ناگزیر ہے، موجودہ مسائل حل نہیں ہو رہے، 1972 ء میں پاکستان کی آبادی سات سے آٹھ کروڑ تھی جو آج بڑھ کر تقریبا 25 کروڑ ہو چکی ہے لیکن صوبوں کی تعداد اب بھی چار ہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مؤثر حکمرانی کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں اور اگر اچھی حکمرانی کیلئے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس پر غور ہونا چاہیے۔
اس صورتحال میں تمام نظریں رائے ونڈ کی جانب تھیں کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اس معاملے پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میاں نواز شریف سے ملاقات کی، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) محسن نقوی کے بیانات پر تصادم کے بجائے تحمل اوراحتیاط کا مظاہرہ کرے گی اور کسی قسم کا سخت ردِعمل نہیں دے گی، تاہم یہ طے پایا کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پارٹی جلد اپنا باضابطہ مؤقف پیش کرے گی، اس سلسلے میں اتوار کے روز ایک اہم اجلاس بھی طلب کیا جا چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا محسن نقوی کا بیان چائے کی پیالی میں طوفان تھا؟ (ن)لیگ کی جانب سے گریز کی حکمت عملی کے بعد کیا صورتحال پہلے جیسی ہی رہے گی؟ کیا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ صرف بیانات کی حد تک ہی تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ صورتحال پہلے جیسی نہیں رہ سکتی کیونکہ اس میں کسی کو کوئی شک نہیں کہ موجودہ نظام عام آدمی کو ڈیلیور کر ہی نہیں پا رہا، ملکی معیشت، امن و امان کی صورتحال، بیروزگاری، تعلیم اورصحت سمیت ہر شعبے میں صورتحال بد ترین ہو چکی ہے۔
ریاست کے بڑوں کے خیال میں بری گورننس اتنے بڑے انتظامی یونٹس کے ساتھ ٹھیک نہیں ہو سکتی، یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بڑے واضح انداز میں کہا کہ اب نئے انتظامنی یونٹس نا گزیر ہو چکے ہیں۔ چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود تجویز دے چکے ہیں کہ ملک میں ڈویژن کی سطح پر انتظامی یونٹس کو صوبوں کی شکل دے دی جائے جس سے عوام کو حکمرانوں کے قریب ہونے کا موقع ملے گا، ملکی اخراجات میں کمی آئے گی اور گورننس کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے میاں عامر محمود کی اس تجویز کی حمایت کی ہے، اب جب یہ طے ہو چکا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس ہی ملک کے انتظامی مسائل کا حل ہیں تو اس پر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کو سیاسی قربانی دینا ہوگی، اگرچہ یہ ایک مشکل سیاسی فیصلہ ہو گا کیونکہ ملک کی بڑی جماعتوں کی اجارہ داری کو دھچکا لگے گا، اگر ایسا نہیں ہوتا تو معاملات پہلے جیسے نہیں چل سکیں گے۔