لیلۃ القدر…اجرِ عظیم کی بابرکت رات
خصوصی تحریر
انہی عظیم نعمتوں میں سے ایک بے مثال نعمت شبِ قدر ہے، جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہوتی ہے، قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس رات کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس رات کو ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت میں گزارے، وہ گویا تراسی سال چار ماہ سے بھی زیادہ عرصہ عبادت کا اجر حاصل کر لیتا ہے۔
شبِ قدر وہ مبارک رات ہے جس میں قرآنِ مجید کا نزول ہوا، فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بندوں پر نازل ہوتی ہیں، اس رات کی برکتیں غروبِ آفتاب سے لے کر طلوعِ فجر تک جاری رہتی ہیں اور اس میں عبادت کرنے والوں کے لئے مغفرت، رحمت اور نجات کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اسی لیے رسول اکرمﷺ نے امتِ مسلمہ کو اس رات کی تلاش کرنے اور اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی ترغیب دی ہے۔
چنانچہ شبِ قدر کی عظمت و فضیلت کو سمجھنا اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے، ذیل میں شبِ قدر کی وجہ تسمیہ، اس کے عطا کئے جانے کی حکمت، اس کی فضیلت، علامات اور دیگر اہم مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے۔
شب قدرعطا کیے جانے کی وجہ:
شب قدرعطا کیے جانے کا سب سے اہم سبب نبی اکرمؐ کی اس امت پر شفقت اور آپؐ کی غم خواری ہے، جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:
حضور نبی اکرمؐ کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں یا اس بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے چاہا دکھایا تو آپؐ اپنی امت کی عمروں کو چھوٹا خیال فرمایا کہ وہ کم عمروں کی وجہ سے اس قدر کثیر اعمال نہ کر سکیں گے جس قدر دیگر امتوں کے افراد اپنی طوالتِ عمری کی وجہ سے کر پائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو شبِ قدر عطا فرما دی جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے۔ (موطاامام مالک،کتاب الاعتکاف،حدیث نمبر698)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمؐ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے مختلف شخصیات حضرت ایوب علیہ السلام، حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت حزقیل علیہ السلام، حضرت یوشع علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حضرات نے اسی اسی سال اللہ تعالی کی عبادت کی ہے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان برگزیدہ ہستیوں پر رشک آیا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپؐ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:اے نبی محترم! آپ کی امت کے لوگ ان سابقہ لوگوں کی اسی اسی سالہ عبادت پر رشک کر رہے ہیں تو آپ کے رب نے آپ کو اس سے بہتر عطا فرما دیا ہے اور پھر سورۃ القدر کی تلاوت کی، اس پر رسول خداؐ کا چہرہ اقدس فرطِ مسرت سے چمک اٹھا۔ (تفسیر قرطبی‘ 20: 132)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے، اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں، یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔ (القدر، 97: 1-5)
احادیث مبارکہ:
عظمت و قدر والی رات کی تلاش اور فضیلت کے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں ان میں سے چند ایک کا ذکر حسب ذیل ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (اور ایک روایت میں ہے کہ رمضان کی آخری سات طاق راتوں) میں تلاش کیا کرو۔‘‘ (صحیح بخاری:1913)
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا: اس (یعنی شبِ قدر) کو رمضان المبارک کے آخری عشرے میں باقی رہنے والی راتوں میں سے نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔.(صحیح بخاری:1917)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شبِ قدر میں حالت ایمان میں ثواب کی غرض سے قیام کیا اْس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی غرض سے رمضان کے روزے رکھے اْس کے بھی سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔(صحیح مسلم:760)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر میں قیام کرے اور اس کو پا لے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ابو ہریرہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے۔(صحیح مسلم :760)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس رمضان المبارک کا مہینہ آیا، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں، اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اورسرکش و شریر شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس ماہ میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار راتوں سے افضل اور بہتر ہے، جو اس (رات) کی خیرات و برکات سے محروم کر دیا گیا وہ (ہر خیر سے) محروم کر دیا گیا۔(سنن نسائی:2106)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہ رمضان آیا تو حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا: یہ جو مہینہ تم پر آ گیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو شخص اس رات کی خیرات و برکات سے محروم کر دیا گیا وہ گویا تمام خیر سے محروم کر دیا گیا اور اس رات کی خیرات و برکات سے محروم صرف وہی شخص کیا جاتا ہے جو (اصلاً ہر خیر سے) محروم ہو۔(سنن ابن ماجہ:1644)
حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ثقہ (یعنی قابل اعتماد) اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرمؐ کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں یا اس بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے چاہا دکھایا تو آپؐ اپنی امت کی عمروں کو چھوٹا خیال فرمایا کہ وہ کم عمروں کی وجہ سے اس قدر کثیر اعمال نہ کر سکیں گے جس قدر دیگر امتوں کے افراد اپنی طوالتِ عمری کی وجہ سے کر پائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو شبِ قدر عطا فرما دی جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے۔(موطاامام مالک:698)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا: بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر میری امت ہی کو عطا کی ہے ان سے پہلے کسی امت کو یہ نہیں ملی۔(مسندالفردوس: 647)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں شبِ قدر کے بارے میں بتائیں تو آپؐ نے فرمایا: یہ (رات) ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے، اس رات کو آخری عشرہ میں تلاش کرو، بے شک یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں میں سے کوئی ایک یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے، جو بندہ اس میں ایمان و ثواب کے ارادہ سے قیام کرے اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔(مسنداحمد:22765)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا: جب شب قدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں، اور ہر اس کھڑے بیٹھے بندے پر جو اللہ کا ذکر کرتا ہے، سلام بھیجتے ہیں، جب ان کی عید کا دن ہوتا ہے یعنی عید الفطر کا دن تو اللہ ان بندوں سے اپنے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! اْس مزدور کی اْجرت کیا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کر دے؟ وہ عرض کرتے ہیں: الہٰی! اس کی اْجرت یہ ہے کہ اسے پورا پورا اجر دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے فرشتو! میرے بندے اور بندیوں نے میرا وہ فریضہ پورا کر دیا جو ان پر تھا، پھر وہ دعا میں دست طلب دراز کرتے ہوئے نکل پڑے، (اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) مجھے اپنی عزت، اپنے جلال، اپنے کرم، اپنی بلندی اور رفعتِ مکانی کی قسم: میں ان کی دعا ضرور قبول کروں گا، پھر ( اپنے بندوں سے) فرماتا ہے: لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا، فرمایا: پھر یہ لوگ بخشے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔(شعب الایمان:3717)
شبِ قدر کو پوشیدہ رکھے جانے کی حکمت:
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کہ اللّٰہ تعالیٰ نے شب ِقدر کو چند حکمتوں کی بناء پر پوشیدہ رکھا ہے:
جس طرح دیگر اشیاء کو پوشیدہ رکھا، مثلاً اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کو اطاعتوں میں پوشیدہ فرمایا تاکہ بندے ہر اطاعت میں رغبت حاصل کریں، اپنے غضب کو گناہوں میں پوشیدہ فرمایا تاکہ ہر گناہ سے بچتے رہیں، اپنے ولی کو لوگوں میں پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ سب کی تعظیم کریں، دعاء کی قبولیت کو دعاوں میں پوشیدہ رکھاتا کہ وہ سب دعاؤں میں مبالغہ کریں۔
اسمِ اعظم کو اَسماء میں پوشیدہ رکھا تاکہ وہ سب اَسماء کی تعظیم کریں، اورنمازِ وْسطیٰ کو نمازوں میں پوشیدہ رکھا تاکہ تمام نمازوں کی پابندی کریں، توبہ کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ بندہ توبہ کی تمام اَقسام پر ہمیشگی اختیار کرے اور موت کا وقت پوشیدہ رکھا تاکہ بندہ خوف کھاتا رہے، اسی طرح شب ِقدر کو بھی پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں۔
گویا کہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ،’’اگر میں شبِ قدر کو مْعَیَّن کر دیتا اور یہ کہ میں گناہ پر تیری جرات کو بھی جانتا ہوں تو اگر کبھی شہوت تجھے اس رات میں گناہ کے کنارے لا چھوڑتی اور تو گناہ میں مبتلا ہو جاتا تو تیرا اس رات کو جاننے کے باوجود گناہ کرنا لاعلمی کے ساتھ گناہ کرنے سے زیادہ سخت ہوتا، پس اِس وجہ سے میں نے اسے پوشیدہ رکھا۔
گویا کہ ارشاد فرمایا میں نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ شرعی احکام کا پابند بندہ اس رات کی طلب میں محنت کرے اور اس محنت کا ثواب کمائے۔
جب بندے کو شبِ قدر کا یقین حاصل نہ ہوگا تو وہ رمضان کی ہر رات میں اس امید پر اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت میں کوشش کرے گا کہ ہوسکتا ہے کہ یہی رات شب ِقدر ہو۔( تفسیر کبیر، القدر، 32/ ۲۲۹-۲۳۰)
شب قدرکی علامات
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا تو نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’شب قدر رَمَضانْ المْبارَک کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی اِکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا اْنتیسویں شب میں تلاش کرو، تو جو کوئی اِیمان کے ساتھ بہ نیتِ ثواب اِس مبارَک رات میں عبادت کرے، اْس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
اْس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مبارَک شب کھلی ہوئی، روشن اور بالکل صاف وشفاف ہوتی ہے، اِس میں نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے نہ زیادہ سردی بلکہ یہ رات معتدل ہوتی ہے، گویا کہ اِس میں چاند کھلا ہوا ہوتا ہے، اِس پوری رات میں شیاطین کو آسمان کے ستارے نہیں مارے جاتے، مزید نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اِس رات کے گزرنے کے بعد جو صبح آتی ہے اْس میں سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے اور وہ ایسا ہوتا ہے گویا کہ چودھویں کا چاند، اللہ تعالیٰ اِس دِن طلوعِ آفتاب کے ساتھ شیطان کو نکلنے سے روک دیا ہے۔‘‘ (مْسند احمد :۲۲667،۲۲۸۲۹)
ستائیسویں رمضان المبارک میں شب ِقدر کا تعین:
رمضان المبارک کی ستائیسویں شب شبِ قدر کی رات ہے، جمہور علماء اسلام کی یہی رائے ہے، جیسا کہ امام قرطبی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:علماء کا شب قدر کی تعین کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن اکثریت کی رائے یہی ہے کہ لیلۃ القدر کی رات ستائیسویں شب ہے۔(تفسیرالقرطبی‘ 20: 134)
علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: علماء کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ طاق راتوں میں سے ستائیسویں ہے۔(روح المعانی‘ 30: 220)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ستائیسویں کو شب قدر قرار دیتے ہوئے تین دلیلیں بیان کیا کرتے تھے، جس کو امام رازی رحمہ اللہ علیہ نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے۔ (1 ) لفظ لیلۃ القدر کے 9 حروف ہیں اور اس کا تذکرہ تین دفعہ ہوا ہے اور مجموعہ 27 ہوگا(تفسیر کبیر‘ 23: 30)۔ (2) سورۃ القدر کے کل 30 الفاظ ہیں، جن کے ذریعے شب قدر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے لیکن اس سورہ میں جس لفظ کے ساتھ اس رات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ’’ ہی‘‘ ضمیر ہے اور یہ لفظ اس سورہ کا ستائیسواں لفظ ہے(تفسیر کبیر‘ 32: 30)۔
(3) سیدنا فاروق اعظمؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے شب قدر کی تعین کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالی کو طاق عدد پسند ہے اور طاق عددوں میں سے بھی سات کے عدد کو ترجیح حاصل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کی تخلیق میں سات کے عدد کو نمایاں کیا ہے مثلاً سات آسمان، سات زمین، ہفتہ کے دن سات، طواف کے چکر سات وغیرہ(تفسیر کبیر 32: 30)۔
گویا شبِ قدر اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتِ محمدیہ کیلئے ایک عظیم تحفہ اور خصوصی رحمت ہے، یہ رات بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اپنی زندگی کو سنوارنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے، خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو اس مبارک رات کی قدر کرتے ہیں، اسے عبادت، ذکر، دعا اور تلاوتِ قرآن میں گزارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت حاصل کرتے ہیں۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ہر رات کو قیمتی سمجھیں اور پوری محنت کے ساتھ عبادت کریں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شبِ قدر ہمارے سامنے آ کر گزر جائے اور ہم اس کی عظیم برکتوں سے محروم رہ جائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ قدر کی حقیقی قدر کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
شبِ قدر میں کرنے والے اہم اعمال
شبِ قدر ایسی بابرکت رات ہے جس میں مسلمان کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عبادت اور نیکی کے کاموں میں مصروف رہے، اس رات کے اہم اعمال درج ذیل ہیں۔
نمازِ نفل اور قیام اللیل: اس رات زیادہ سے زیادہ نوافل، تہجد اور قیام اللیل ادا کرنا چاہیے کیونکہ حدیث میں ہے کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں(صحیح بخاری:1901)۔
تلاوتِ قرآن مجید: چونکہ قرآنِ کریم کا نزول اسی رات ہوا، اس لیے اس رات قرآن مجید کی تلاوت کرنا بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔
ذکر و اذکار اور درود شریف: اللہ تعالیٰ کا ذکر، تسبیح، تہلیل اور درود شریف پڑھنا اس رات کی اہم عبادات میں شامل ہے۔
دعا اور استغفار: اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے، اس لیے کثرت سے دعا، توبہ اور استغفار کرنا چاہیے۔
مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان صدر اسلامک ریسرچ کونسل ہیں، 40 سے زائد کتب کے مصنف ہیں، 55 مقالے بھی شائع ہو چکے ہیں۔