افغانستان میں کارروائی ناگزیر، 100 دہشتگرد مرنے کی اطلاعات، 10 ارب روپے دینے کو تیار مگر گارنٹی دیں مداخلت نہیں ہوگی : صرف جنازے نہیں اٹھائینگے بھرپور جواب دینگے : وفاقی حکومت

افغانستان میں کارروائی ناگزیر، 100 دہشتگرد مرنے کی اطلاعات، 10 ارب روپے دینے کو تیار مگر گارنٹی دیں مداخلت نہیں ہوگی : صرف جنازے نہیں اٹھائینگے بھرپور جواب دینگے : وفاقی حکومت

پاکستان امن چاہتا ،ملکی سلامتی پر سمجھوتا نہیں ہوگا، ایئرفورس کی سٹرائیکس انٹیلی جنس بیسڈ ،ہدف پرمبنی تھیں،دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی: طارق فضل ،سینیٹ میں موقف پیش جوپالیسی اپنائی پہلے اپناتے تو دہشتگردی کا نام و نشان نہ رہتا، پی ٹی آئی سپورٹ کرے :رانا ثنا ،عمران سے معاملات ٹھیک کریں حکومت گرانے نہیں دینگے :ناصر عباس، قومی سلامتی کونسل سمیت 4 بلز منظور

اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے ، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے سینیٹ اجلاس میں افغانستان میں کارروائی سے متعلق حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے بھرپور جواب دیں گے ، ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، افغانستان میں کارروائی ناگزیر تھی، تین افغان صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ، 100 دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔افغانستان میں دہشت گردوں کی پناگاہیں اور تربیت گاہیں ہیں ، افغانستان نے ان طالبان کو سرحد کی دوسری طرف دھکیلنے کیلئے پاکستان سے 10ارب روپے مانگے ، ہم یہ رقم دینے کو تیار ہیں لیکن گارنٹی دیں کہ پاکستان میں مداخلت نہیں ہوگی۔انہوں نے مزید کہا افغانستان میں کارروائی کا ایک پس منظرہے ، پاکستان نے باربار افغانستان کوبارڈر پار سے ہونے والی دراندازی کے بارے میں آگاہ کیا۔

ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے ، دہشت گردی کا دائرہ کار پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے ، ہم لاشیں اٹھانے کیلئے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے ۔طارق فضل چودھری نے کہا اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے بھرپور جواب دیں گے ، ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، پاکستان امن چاہتا ہے لیکن ملکی سلامتی پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ افغانستان میں ایئرفورس نے سٹرائیکس کیں، 100 دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے ، سٹرائیکس انٹیلی جنس بیسڈ اور ہدف پرتھیں، سٹرائیکس دہشت گرد پناہ گاہوں و تربیتی کیمپوں پر کی گئیں،افغان طالبان سے مذاکرات میں ضمانت نہ ملنے پر کارروائی ناگزیر تھی۔پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے ، دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ان حملوں میں شہری آبادی، مساجد یا مدارس کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنے والے عناصر کو یہ پیغام مل جانا چاہئے کہ قوم، سیاسی قیادت اور مسلح افواج متحد ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم اور عسکری قیادت کے عزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے خطاب کے اختتام پر شہدا کے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ قوم ان قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک ایک شہری اور سکیورٹی اہلکار کے خون کا حساب لیا جائے گا اور وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کیا جائے گا۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا افغانستان کوبتادیا تھا کہ دہشت گرد اورپاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں، افغانستان کو بات سمجھ نہیں آئی تو ردعمل دیا گیا۔

انہوں نے کہا دہشت گردی کیخلاف جوپالیسی آج اپنائی گئی ہے اسے پہلے اپنانا چاہیے تھا، اگرچند سال قبل یہ پالیسی اپنائی جاتی تو دہشت گردی کا نام ونشان نہ رہتا،جب جب دہشت گرد افغانستان سے پاکستان پرحملے کریں گے ردعمل دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا ہم بانی پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی کوکہتے ہیں کہ آپ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں، ہم انہیں کہتے ہیں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کوبھرپورسپورٹ کریں۔ عمران خان کی رہائی سے متعلق حکومت کے پاس نہ کوئی ڈھیل ہے نہ ڈیل، بانی پی ٹی آئی کا جو بہترین علاج ہوسکتا ہے وہ ہوا ہے ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اسے ریگولیٹ کیا ہے ،ڈاکٹرز نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، بیرسٹر گوہر خان کو شرکت کی درخواست کی گئی مگر انہوں نے انکار کردیا، آپ نے ایک معائنہ کروایا اور ڈاکٹر نے ٹریٹمنٹ کو درست قرار دیا، اس کی بنیاد پر کہا جاتا ہے اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت نے اس وقت بھی کوشش کی جب آپ اقتدار میں تھے ، ہم اس ملک کی بہتری کے لیے آپ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، ہم چاہتے ہیں آپ پارلیمنٹ کا حصہ بنیں ،کمیٹیوں میں شرکت کریں، آپ میثاق جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہمارا ساتھ دیں، آپ سیاسی عمل کا حصہ بننے سے مسلسل انکاری ہیں، آپ نے بھی کیسوں پر عدالتوں سے ریلیف لینا ہے ، جو آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں آپ ان سے مذاکرات نہیں کرتے ، جو مذاکرات نہیں کرنا چاہتے آپ نے ان کو درخواستیں دی ہوئی ہیں، ہم معاملات کو جمہوری انداز سے بڑھانے کے لیے تیار ہیں، جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے ، ڈیڈلاک سے نہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا 40 ارب روپے کی فائر وال اگر فیل ہوئی ہے تو وہ دوبارہ بنے گی، اگر فائر وال دوسری باربھی فیل ہوئی تو وہ تیسری باربھی بنے گی، سوشل میڈیا کی یلغار سے اگر آپ خودکو محفوظ نہیں رکھیں گے تو پھرتباہی ہے ، اس پر اگر 40 ارب یا 400 ارب بھی لگیں تو کوئی کمپرومائز نہیں ہوسکتا، پوری دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جس نے اس یلغارسے خود کو محفوظ نہ کیا ہو۔

پنجاب حکومت کی جانب سے طیارہ خریدنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جو طیارہ لیا گیا ہے وہ کسی جماعت کا یا چیف منسٹرپنجاب کا کوئی ذاتی اثاثہ نہیں، کچھ لوگوں نے طیارے کو صرف پراپیگنڈے کے لیے ایشو بنایا ہوا ہے ، پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے ، اس کے بڑے وسائل ہیں، یہ طیارہ جدید ہے ، اس نے آگے تیس چالیس سال رہنا ہے ، پہلا جو جہاز تھا اس کو 25 ،30 سال بعد رپلیس کیا جا رہا ہے ، یہ طیارہ ٹیکنالوجی کے حساب سے بہتر ہے ، یہ پنجاب کا اثاثہ ہے ۔قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آپ عمران خان سے معاملات ٹھیک کریں،میں وعدہ کرتا ہوں آپ کی حکومت گرانے نہیں دیں گے ۔ بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ کی بینائی کا مسئلہ ہے ،ہم پارلیمنٹیرینز نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کا فیصلہ کیا،ہم احتجاج کیلئے نکلے تو پارلیمنٹ گیٹ کو تالے لگا دئیے گئے ،پارلیمنٹ کے دروازوں کو تالے لگانا کیا پارلیمان کی توہین نہیں؟ ،یہ اقدام بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،مطالبہ تھا بانی پی ٹی آئی کا ایسا علاج کیا جائے جس سے ان کا خاندان مطمئن ہو،بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کیا جاتا تو کچھ نہ ہوتا،یہ عدم اعتماد اور فاصلے ختم کریں۔

قائد حزب اختلاف نے کہا بانی پی ٹی آئی کے خلاف جعلی مقدمات ہیں،کوئی سیاست نہیں کرنا چاہتا ،یہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا مسئلہ ہے ،شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کا علاج کرایا جائے ،دو دن میں پھر بانی پی ٹی آئی کو انجکشن لگنا ہے ۔ سینیٹ میں قومی سلامتی کونسل ترمیمی بل سمیت 4 مسودہ قانون منظور کرلئے گئے ، ضمیر حسین گھمرو نے زکوٰۃ و عشر آرڈیننس ترمیمی بل ،سعدیہ عباسی نے امتناع سزائے جسمانی ترمیمی بل،شہادت اعوان نے قومی سلامتی کونسل ترمیمی بل اور مجموعہ ضابطہ فوجداری ترمیمی بل 2024پیش کئے ۔ چیئرمین سینیٹ نے اراکین سے شق وار رائے لی جس کے بعد متفقہ طو ر پر بلز منظور کرلئے گئے ۔ جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈینس میں مزید ترمیم کرنے کے بل کوموخر جبکہ متعدد بلز متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے گئے ۔دریں اثنا چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے دو بلوں البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2025 اور کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی بل 2026 کو تفصیلی غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا۔

سینیٹرز خالد طاہر اور شیری رحمن نے ایوان میں البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے قیام سے متعلق بل (البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2025) اور کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی بل 2026 پیش کیے ۔ایوان بالا کے اجلاس میں پیر کو چار نئے بل بھی پیش کر دئیے گئے جن میں اسلام آباد رئیل اسٹیٹ (ریگولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ) (ترمیمی) بل 2026، پاکستان پینل کوڈ (ترمیمی) بل 2026، آفینس آف زنا (انفورسمنٹ آف حدود) (ترمیمی) بل 2026 اور میجورٹی (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔یہ بل سینیٹر محسن عزیز اور سینیٹر محمد عبدالقادر کی جانب سے ایوان میں پیش کیے گئے ۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دئیے تاکہ ان پر تفصیلی غور و خوض کیا جا سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں