فضائی کاروائی کے بعد افغانستان کا رابطہ، مذاکرات کی درخواست، پاکستان کا انکار
فی الحال بات چیت نہیں کرسکتے ، اگر افغان سرزمین سے دہشت گردی ہوئی تو دوبارہ جواب دیا جائے گا:پاکستان دہشتگرد گروہوں کیخلاف ٹھوس کارروائی پرہی بات ہو سکتی ہے ،دہشتگردی کا خاتمہ واحد ایجنڈا :سفارتی ذرائع
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) اسلام آباد کی امام بارگاہ میں دھماکے اور باجوڑ میں فتنہ الخوارج کی جانب سے حملوں کے بعد پاکستان نے گزشتہ رات افغانستان کے اندر انٹیلی جنس بنیادوں پر مختلف صوبوں میں سات مقامات کو نشانہ بنایا اور وہاں ایئر سٹرائیکس کیں جن میں ٹی ٹی پی سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے ۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ دنیا کو بتایا کہ افغانستان میں ایئر سٹرائیکس کے بعد افغان طالبان رجیم نے پاکستان سے رابطہ کیا اور مذاکرات کی درخواست کی۔
تاہم پاکستان کی جانب سے طالبان کی عبوری حکومت کو پیغام دیا گیا کہ ان کی درخواست پر فی الوقت بات چیت نہیں کی جا سکتی اور اسلام آباد نے اپنی پالیسی ایک مرتبہ پھر واضح کر دی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ جب بھی بات چیت ہوئی اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ۔ کابل کو یہ بھی پیغام دیا گیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ہوئی تو پاکستان دوبارہ جواب دے گا۔۔ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔۔ذرائع کے مطابق افغان عبوری حکومت اگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور ٹھوس کارروائی کریں تو ہی بات ہو سکتی ہے ۔ طالبان رجیم کے ساتھ کسی بھی بات چیت کا واحد ایجنڈا دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔
سفارتی ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی کہ افغان طالبان رجیم کو انگیج کیا جائے لیکن جب بھی عبوری حکومت کو مذاکرات کی میز پر لایا جاتا ہے اسی دوران وعدہ خلافی کی جاتی ہے ، نہ تو تحریری ضمانتیں دی جاتی ہے اور نہ ہی زبانی وعدوں پر عمل کرتے ہیں ۔ پاکستان نے ماضی میں بھی افغانستان میں ایئر سٹرائیکس کی تھیں جس کے بعد دہشت گرد کارروائیوں میں کمی دیکھی گئی، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ایک مرتبہ پھر افغان سرزمین سے فتنہ الخوارج کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔اس کے بعد افغانستان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر شواہد شیئر کیے گئے اور سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ طالبان ناظم الامور کو ڈی مارش بھی کیا گیا۔ اس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر انٹیلی جنس بنیادوں پر ٹی ٹی پی کے مراکز کو نشانہ بنایا جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 80 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔