سربراہ سی سی ڈی کو نہ بلاتے تو ان 3 لوگوں کی لاشیں ملتیں : ہائیکورٹ
قانون کے مطابق کام کریں،ہمارے دونوں کاندھوں پر فرشتے بیٹھے ہیں ،فیصلہ اعمال پر ہونا ہے :جسٹس تنویر احمد جتنے لوگ جس کرسی پر بیٹھے ہیں وہ سب جج ہیں:ریمارکس،3افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواست کی سماعت ملتوی
لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے 3 افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں دلائل طلب کرتے ہوئے سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ سے کہاکہ آپ کو نہ بلاتا تو ان 3لوگوں کی لاشیں مل جاتیں، قانون کے مطابق کام کریں، ہمارے دونوں کاندھوں پر فرشتے بیٹھے ہیں، ایک پر جنت دوسرا جہنم لے جانے والا فرشتہ ہے ،فیصلہ اعمال پر ہونا ہے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے درخواست گزار خاتون سلمیٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے علی احمد ، تنویر احمد اور ناصر کی بازیابی کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے ۔ دوران سماعت عدالتی حکم پر ایڈیشنل آئی جی اور سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ سمیت پنجاب حکومت کے لا افسر پیش ہوئے۔
جسٹس تنویر احمد شیخ نے ریمارکس میں کہا کہ سہیل ظفر چٹھہ صاحب آپ کو نہ بلاتا تو ان کی لاشیں ہی سامنے آتیں آپ کے پاس ،انکشاف کے علاوہ کوئی چیز ہے کیا؟۔ ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد ملزموں سے ریکوری ہوئی ۔سہیل ظفر چٹھہ نے بتایا کہ جی درخواست دائر ہونے اور دوران تفتیش ریکوری ہوئی ،ایک گائے اور باقی نقدی برآمد ہوئی ،دس کیسز میں ریکوری ہوئی۔عدالت نے ریمارکس میں مزید کہا کہ جتنے لوگ جس کرسی پر بیٹھے ہیں وہ سب جج ہیں، وہ کسی نہ کسی کو انصاف دیتے ہیں،ہم سب اللہ کو جواب دہ ہیں،دس بارہ دن کی تاریخ دے رہا ہوں ، دیکھتا ہوں اس کیس میں کیا ہوتا ہے ۔عدالت نے سی سی ڈی کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے مزید سماعت 5 مارچ تک ملتوی کردی ۔