سندھ میں فسطائیت عروج پر، انصاف کا قتل جاری ، حلیم عادل

سندھ میں فسطائیت عروج پر، انصاف کا قتل جاری ، حلیم عادل

رواں برس جنوری سے اب تک 468سے زائد کارکن، عہدیدار گرفتار کئے جا چکے ضمانت ملنے کے باوجود رہنماؤں کی جھوٹے دہشتگردی مقدمات میں گرفتاری شرمناک

کراچی (این این آئی)تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں فسطائیت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور انصاف کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما ایڈووکیٹ خالد محمود علی اور معراج شاہ کو پولیس نے سٹی کورٹ میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں مزید دو روزہ پولیس ریمانڈ پر دے دیا، جو انصاف کے قتل کے مترادف ہے ۔حلیم عادل شیخ دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں اور وکلا کے ہمراہ سٹی کورٹ پہنچے ، جہاں انہوں نے گرفتار رہنماؤں سے ملاقات ، اظہار یکجہتی کیا اور ان کے حوصلے و ثابت قدمی کو سراہا۔

انہوں نے کہا بلاول بھٹو زرداری کی نام نہاد جمہوری حکومت اور سندھ پولیس نے 5 اپریل کے پرامن مہنگائی مخالف احتجاج کو بدترین ریاستی طاقت کے ذریعے کچلا۔انہوں نے کہا 24 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور ضمانت ملنے کے باوجود عالمگیر خان، دوا خان، ایڈووکیٹ خالد محمود علی اور معراج شاہ کو جھوٹے دہشت گردی کے مقدمات میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا یہ انتہائی شرمناک عمل ہے کہ دہشت گردی کیس میں ضمانت کے بعد کارکنان کو جیل کے دروازے سے دوبارہ اٹھا کر ایک اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جنوری 2026 سے اب تک 468 سے زائد کارکنوں اور عہدیداروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے ، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ میں جمہوریت نہیں بلکہ کھلی آمریت اور سیاسی انتقام کا راج ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں