سانحہ 9 مئی، پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سمیت 100 ملزم بری
شاہراہ بند کرکے احتجاج پر دہشتگردی کا مقدمہ تھا، گھنٹوں ٹریفک معطل رکھی، استغاثہ الزامات ثابت نہ کرسکا بری ہونیوالوں میں ایم این اے جاوید اقبال وڑائچ، آصف مجید، نعیم شفیق ودیگر شامل، مزید کارروائی ختم کر دی گئی
رحیم یارخان(ڈسٹرکٹ رپورٹر )سانحہ 9 مئی اور قومی شاہراہ بند کرکے احتجاج کے مقدمے میں عدالت نے تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی، ممبران صوبائی اسمبلی سمیت100 سے زائد ملزموں کو باعزت بری کر دیا۔تفصیل کے مطابق سینئر سول جج مسرور عاشق کی عدالت میں تھانہ اقبال آباد میں درج مقدمہ نمبر 239-23 کی سماعت ہوئی۔مقدمے میں الزام تھا کہ ملزموں نے قومی شاہراہ بند کرکے پابندی کے باوجود گھنٹوں ٹریفک معطل رکھی، جس پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریکارڈ میں موجود شواہد، گواہان کے بیانات اور مجموعی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزموں کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے ۔بعد ازاں عدالت نے سینئر ایڈووکیٹ منظور احمد وڑائچ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے تمام ملزموں کو باعزت بری کرنے کا حکم جاری کیا۔بری ہونے والوں میں ممبر قومی اسمبلی جاوید اقبال وڑائچ، ممبران صوبائی اسمبلی آصف مجید، نعیم شفیق، صائمہ طارق سمیت دیگر رہنما اور کارکن شامل ہیں۔عدالتی فیصلے کے بعد مقدمے میں نامزد 100 سے زائد افراد کو بری کر دیا گیا جبکہ مزید کارروائی ختم کر دی گئی ہے ۔