صوبوں کو اہم صحت پروگرامز کیلئے مقامی فنڈنگ بڑھانے کی ہدایت
نئی شرائط پوری نہ کیں تو مختص گلوبل فنڈ کی معاونت متاثر ہوسکتی :دستاویزات ٹی بی، ایچ آئی وی ، ملیریا پروگرامز کو پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم میں ضم کریں:مراسلہ
لاہور(محمد حسن رضا سے )وفاقی حکومت نے بیرونی فنڈنگ میں ممکنہ کمی اور عالمی مالیاتی دباؤ کے تناظر میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو اہم مراسلہ جاری کرتے ہوئے ٹی بی، ایچ آئی وی اور ملیریا پروگرامز کیلئے مقامی فنڈنگ فوری طور پر بڑھانے کی ہدایت کردی ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاق نے صوبوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی فنڈنگ کی نئی شرائط پوری نہ کی گئیں تو پاکستان کیلئے مختص گلوبل فنڈ کی مالی معاونت متاثر ہوسکتی ہے ، جس کے نتیجے میں ملک میں جاری اہم صحت پروگرامز دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کو بھی باضابطہ خط موصول ہوگیا جس میں صوبوں کو صحت پروگرامز کو بتدریج اپنے وسائل سے چلانے کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ گلوبل فنڈنے پاکستان کیلئے تقریباً 24 کروڑ 53 لاکھ ڈالر مختص کئے ہیں، تاہم اس فنڈنگ کو مقامی مالی شراکت سے مشروط کردیا گیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے واضح کیا کہ ٹی بی ادویات کیلئے 2027 سے کم از کم 50 فیصد مقامی فنڈنگ لازمی ہوگی جبکہ 2029 تک 100 فیصد اخراجات صوبائی حکومتوں کو خود برداشت کرنا ہوں گے ۔ مراسلے میں مزید کہا گیا کہ صوبے ابھی سے بجٹ میں مناسب فنڈز مختص کریں ،ٹی بی ادویات، لیبارٹری سسٹمز اور تشخیصی سہولیات کیلئے بتدریج مقامی بجٹ بڑھایا جائے ۔ مراسلے میں خاص طور پر مشینوں اور ٹی بی ٹیسٹنگ نظام کو فعال رکھنے کیلئے مستقل مقامی مالی وسائل پیدا کرنے پر زور دیا ہے ۔
دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹی بی، ایچ آئی وی اور ملیریا پروگرامز کو الگ الگ عمودی نظام کے تحت چلانے کے بجائے پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم میں ضم کیا جائے ۔ وفاق نے صوبوں کو لوکل اونرشپ اور ہیلتھ سسٹم انٹیگریشن ماڈل اپنانے کی سفارش کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فنڈنگ میں تعطل کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ حکام کے مطابق صرف ٹی بی پروگرام میں ادویات، تشخیصی ٹیسٹس اور لیبارٹری اخراجات سالانہ اربوں روپے تک پہنچ چکے ہیں جبکہ عالمی ادارے اب ترقی پذیر ممالک سے مقامی مالی شراکت بڑھانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مراسلے میں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ مالی سالوں کے بجٹ میں ان پروگرامز کیلئے مرحلہ وار اضافی فنڈنگ شامل کریں ۔