گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی سولو پرواز ہی کو ترجیح دے گی

گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی سولو پرواز ہی کو ترجیح دے گی

آزاد امیدواروں کو اپنے حق میں بٹھانے کے لیے کروڑوں کے استعمال کی اطلاعات

( تجزیہ :سلمان غنی)

گلگت بلتستان کے انتخابات اتنے بڑے تو نہ تھے ، مگر حالات و واقعات اور خود پاکستان کی بڑی جماعتوں کی قیادت نے براہِ راست اس میں حصہ لے کر اسے بڑا بنا دیا۔ پاکستان بھر کی نظریں گلگت بلتستان کے انتخابات پر تھیں، جہاں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہو چکی ہے ۔ اس طرح پیپلز پارٹی کو سیاسی محاذ پر بڑا ایج ملا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کو انتخاب جیتنے پر مبارکباد دے کر اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا۔ویسے تو پیپلز پارٹی کی قیادت بھی دھاندلی کے خدشات کا اظہار کرتی نظر آ رہی تھی۔ کیا پیپلز پارٹی اب ان الزامات پر نظرِ ثانی کرے گی؟ یہ دیکھنا ہوگا۔ ویسے تو اس انتخاب کے نتائج کے بارے میں سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ یہ قومی سیاست میں اہم پیش رفت کا باعث ہو سکتے ہیں، اور یہ کامیابی مرکز میں اتحادی جماعت کے طور پر اس کی سودے بازی کی طاقت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے ۔اس وقت پیپلز پارٹی دس نشستوں کے ساتھ پہلے ، مسلم لیگ (ن) چھ نشستوں کے ساتھ دوسرے ، اور ایم ڈبلیو ایم ایک نشست کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، جبکہ سات آزاد ارکان بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے حوالے سے پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ان کی اکثریت کا تعلق اس کی جماعت سے ہے۔

لہٰذا ایک بات تو طے ہے کہ حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی، لیکن کیا ن لیگ اس کا حصہ ہوگی؟ یہ بات کہنا ابھی قبل از وقت ہے ، تاہم زیادہ امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی سولو پرواز ہی کو ترجیح دے گی۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کی کامیابی کئی سطحوں پر اہمیت رکھتی ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ آصفہ بھٹو نے بھی یہاں بھرپور انتخابی مہم چلائی اور اپنے بیانیے میں خود کو اپوزیشن جماعت کے طور پر پیش کرتے ہوئے حکومت کو نقصان پہنچایا۔ دھاندلی کے الزامات بھی لگائے گئے ، جس کے باعث بعض حکومت مخالف ووٹرز بھی پیپلز پارٹی کے حق میں گئے ۔جہاں تک آزاد ارکان کا سوال ہے تو بعض مضبوط آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی، مگر انہیں پھر بھی مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن کیا آزاد حیثیت سے جیتنے والے اپنی آزادی برقرار رکھ پائیں گے ؟ یہ بہت مشکل ہوگا۔الزام تراشی کے باوجود منظم انتخابی دھاندلی تو ثابت نہیں ہو پا رہی، البتہ بعض آزاد امیدواروں کو اپنے حق میں بٹھانے کے لیے کروڑوں روپے کے استعمال کی اطلاعات ہیں۔ ن لیگ کے ذمہ داران کے مطابق بعض آزاد امیدواروں نے اپنے حق میں بیٹھنے کے عوض اخراجات کی مد میں کروڑوں روپے مانگے۔

ن لیگ کی قیادت نے معذرت کی، البتہ دیگر جماعتوں نے ایسے امیدواروں کو ان کی شرائط پر ساتھ ملا لیا۔سیاسی حلقے اس انتخاب کو بظاہر تو حکومتی جماعتوں کی جیت قرار دے رہے ہیں، لیکن یہاں پیپلز پارٹی کی کامیابی کو 28ویں ترمیم کی منظوری اور کراچی کے سیاسی مستقبل سے بھی جوڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نئی ترمیم کی مشروط حمایت کر سکتی ہے ۔گلگت بلتستان کے انتخابات کے اگلے ہی روز حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ معاملات پر اتفاقِ رائے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے ۔گلگت بلتستان کے انتخابی محاذ پر ن لیگ کے نتائج کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ یہاں تو پارٹی قائد نواز شریف بھی گئے ، مگر ان کے دورے کے خاطر خواہ نتائج کیوں پیدا نہ ہو سکے ؟ اس کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے ۔لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ حکمران جماعتیں کوئی ایسی حکمتِ عملی اختیار نہیں کریں گی جس سے سیاسی مخالفین، خصوصاً پی ٹی آئی کو کوئی فائدہ ملے ۔ تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات سے ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس انتخابی نشان نہ بھی ہو، تب بھی وہ میدان چھوڑنے کو تیار نہیں، اور ہر سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی نظر آتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں