2026 میں عالمی معیشت کو چیلنجز، ترقی کاتخمینہ 3.1فیصد
توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں متوقع اضافہ، مہنگائی بڑھ کر 4.4فیصد ہو سکتی اشیا و خدمات کی رفتار گزشتہ سال کی 5.1فیصد کی نسبت 2.8فیصد رہنے کا امکان مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات، کشیدگی سے توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)عالمی معیشت 2026 میں سست روی کا شکار ہونے کا امکان ہے ، اقتصادی ترقی کی رفتار کم ہونے ، مہنگائی میں اضافہ، عالمی تجارت کی سست روی اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے باعث دنیا بھر کی معیشتوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ قومی اقتصادی سروے کے مطابق 2025 میں عالمی اقتصادی ترقی کی شرح 3.4 فیصد رہنے کا تخمینہ تھا جو 2026 میں کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کی توقع ہے ۔ عالمی مہنگائی کی شرح 2025 میں 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی جو توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں متوقع اضافے کے باعث 2026 میں بڑھ کر 4.4 فیصد ہو سکتی ہے ۔
آئی ایم ایف کے مطابق اشیا اور خدمات کے عالمی تجارتی حجم میں 2025 کے دوران 5.1 فیصد اضافہ ہوا تاہم 2026 میں اس کی رفتار سست ہو کر 2.8 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ اس کی وجہ اشیا اور خدمات کی برآمدات میں متوقع کمی بتائی جا رہی ہے ۔ 2026 کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور کشیدگی نے توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی جس کے باعث عالمی معیشت کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ گئے اور عالمی اقتصادی منظرنامہ کمزور ہوا ہے ۔ توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتیں عالمی اقتصادی استحکام پر دباؤ برقرار رکھیں گی۔