کالعدم ایکشن کمیٹی کے کردار پر سوالات، امن تباہ کرنیوالے خود کو قانون کے حوالے کریں : وکلا

کالعدم ایکشن کمیٹی کے کردار پر سوالات، امن تباہ کرنیوالے خود کو قانون کے حوالے کریں : وکلا

حملوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے ، انسانی جانوں کا ضیاع، ملوث افراد کو جوابدہ ہونا ہوگا ، صدر سپریم کورٹ بار ہڑتالوں احتجاجی سرگرمیوں سے سیاحت و مقامی معیشت متاثر، شہریوں کا امن و استحکام کیلئے فوری مؤثر اقدامات کا مطالبہ

 مظفرآباد (دنیا نیوز) آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے امن و امان خراب کی صورتحال خراب کرنے اور شرپسندی پھیلانے کی منصوبہ بندی کا بھانڈا پھوٹ گیا ، امن و امان کی صورتحال سے متعلق ایک مبینہ آڈیو لیک ہونے کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بعض ارکان کے کردار پر سوالات اٹھ گئے ،آڈیو میں کئے گئے دعوؤں اور گفتگو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ، ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ آڈیو میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسوب افراد کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے ، جس میں راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی، گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور مختلف مقامات پر افراد کو جمع کرنے سے متعلق بات چیت کی گئی ہے ۔ مبینہ آڈیو میں ایک شخص خود کو سینکڑ وں مسلح افراد کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی سنائی دیتا ہے ، تاہم اس دعوے کی کسی سرکاری یا آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

آڈیو میں بعض متنازع جملے بھی سنائی دیتے ہیں جن پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ، ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر آڈیو مستند ثابت ہوتی ہے تو یہ پرامن احتجاج کے دعوؤں کے برعکس ایک مختلف تصویر ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آڈیو میں کئے گئے بعض دعوے مبالغہ آمیز محسوس ہوتے ہیں، تاہم معاملے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لئے غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں ، دوسری جانب کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے مقامی شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں سے سیاحت اور مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے ،وادی نیلم اور دیگر سیاحتی علاقوں کے عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل ہڑتالوں اور احتجاجی سرگرمیوں سے سیاحت اور مقامی معیشت شدید متاثر ہوئی ، ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور سیاحتی کاروبار سے وابستہ افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ غیر یقینی صورتحال کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

مقامی شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کئے جائیں، عوام نے پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی ترقی اور استحکام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ،شہریوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پرامن اور تعمیری سرگرمیوں کو فروغ دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافہ کریں، مسائل کے حل کے لئے آئینی اور پرامن راستہ اختیار کیا جانا چا ہئے تاکہ عوامی مفادات اور سیاحت کا شعبہ مزید متاثر نہ ہو۔ دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کو غلط قرار دیتے ہوئے ریاست میں امن و امان کی بحالی اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے ۔

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ریاست کا امن تباہ کرنے میں ملوث عناصر فوری طور پر ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح حملوں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور انسانی جانوں کے ضیاع میں ملوث افراد کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا ، آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ایسے افراد کو عدالتوں میں قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے خود کو قانون کے حوالے کریں اور عدالتی عمل کا سامنا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے والے عناصر نہ صرف قانون شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں ، ان کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض شرپسند عناصر سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کی سرگرمیاں ریاستی نظام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں