حالیہ مہینوں میں مہنگائی دوبارہ بڑھی ، شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار : سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی
مشرق وسطیٰ کشیدگی مہنگائی،معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے ،مئی میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد ،مجموعی اوسط افراط زر 8.7 فیصد ریکارڈ، معیشت میں بہتری کا رجحان ہے شرح سود برقرار رکھنے کا مقصد مالیاتی استحکام میں توازن قائم ، مہنگائی کو قابو کرنا ہے ،آئی ایم ایف قرض ،ترسیلات زر سے زرمبادلہ ذخائرمیں اضافہ:مانیٹری پالیسی کمیٹی
کراچی(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک )سٹیٹ بینک نے مالی سال 2025-26 کی آخری مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو 11 اعشاریہ 5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ فیصلہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی و عالمی معاشی صورتحال، مہنگائی کے رجحانات، بیرونی کھاتوں کی پوزیشن اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔گورنر سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ مہینوں میں مہنگائی کے دباؤ میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جسکے باعث محتاط مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کوضروری سمجھا گیا،مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح 11اعشاریہ 7 فیصد تک پہنچ گئی،جبکہ مجموعی اوسط افراطِ زر 8اعشاریہ 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔مرکزی بینک نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتیں آئندہ مہینوں میں مہنگائی اور معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں ۔اعلامیے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملکی معیشت میں بہتری کا رجحان برقرار رہا اور جی ڈی پی کی شرح نمو 3اعشاریہ 7 فیصد رہی ،صنعتی، زرعی اور خدمات کے شعبوں کی بہتر کارکردگی نے اقتصادی نمو میں اہم کردار ادا کیا، جولائی تا مارچ کے دوران بڑی صنعتوں کی شرح نمو 6اعشاریہ 5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا واضح اشارہ ہے۔
مرکزی بینک نے بیرونی شعبے کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر17 ارب 20 کروڑ ڈالرتک پہنچ چکے ہیں جبکہ جون کے اختتام تک ان کے 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے ۔ اعلامیے کے مطابق ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے دو پروگراموں کے تحت موصول ہونے والی رقوم نے ذخائر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے سٹیٹ بینک نے بتایا کہ اپریل 2026 میں 30 کروڑ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جولائی تا اپریل مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 کروڑ ڈالر رہا۔مرکزی بینک کے مطابق توانائی کی درآمدات میں اضافے نے بیرونی کھاتوں پر دباؤ ڈالا تاہم ترسیلات زر کی مضبوط آمد نے صورتحال کو سنبھالے رکھا۔مالیاتی اشاریوں کے حوالے سے سٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2 اعشاریہ 5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے ، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 2 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق حکومت کی مالیاتی نظم و ضبط کی پالیسی معیشت کے استحکام میں معاون ثابت ہو رہی ہے ، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا، جو کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے ،دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال 2026 کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف کم کر کے 13 کھرب روپے مقرر کیا ہے ۔مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے جائزے میں اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ملکی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہیں، تاہم عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بیرونی شعبے کو درپیش خطرات اب بھی موجود ہیں۔کمیٹی کے مطابق شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھتے ہوئے معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔