ریونیو اتھارٹی میں من مانیاں:چیف جسٹس ہائیکورٹ
ایک پٹوار ی دس دس رپورٹیں لوگوں کی منشا کے مطابق لکھتا ہے پولیس کو معاملہ اپنے دائرہ اختیار کے مطابق دیکھنا،اراضی کیس نمٹادیا
لاہور ( کورٹ رپورٹر )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ٹھیکے پر لی اراضی کے قبضے میں مداخلت کیخلاف درخواست سی پی او گوجرانوالہ کی رپورٹ کی روشنی میں نمٹا دی، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پولیس نے اس معاملے کو صرف اپنے دائرہ اختیار کے مطابق دیکھنا ہے ، ایک پٹواری دس دس رپورٹیں لوگوں کی منشا کے مطابق لکھتا ہے ،عدالت نے مدعی کے وکیل مقصود بٹر کے دلائل سے اتفاق نہ کیا، مدعی کے وکیل مقصود بٹر نے مؤقف اپنایا کہ سول جج نے ہمارے حق میں حکم امتناعی جاری کیا ہوا ہے ، جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سول معاملات سول عدالتوں نے دیکھنا ہیں،پراپرٹی ملکیت کے بارے میں ہم فیصلہ نہیں کر رہے ،ریونیو اتھارٹی میں من مانیاں ہیں ،ریونیو اتھارٹی اپنے آپ کو درست نہیں کرتی ۔
سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر سردار ڈاکٹر غیاث نے رپورٹ میں موقف اپنایا کہ پولیس نے مقدمہ کو خارج کردیا ہے ،ڈی ایس پی کے خلاف کارروائی کیلئے آئی جی کو لکھ دیا ہے ۔متعلقہ ایس ایچ او کو چارج شیٹ کر دیا ہے ،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جب لاہورہائیکورٹ نے حکم امتناعی دیا تو کس قانون کے تحت ایف آئی آر دے دی؟۔عدالت نے ڈی ایس پی کے بیان بدلنے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ ڈی ایس پی نے کس حیثیت میں یہ کہا کہ اس اراضی پر گھسنا نہیں۔ وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ درخواست گزار نے نوشہرہ ورکاں میں 84 ایکڑ زمین بیرون ملک مقیم مالکان سے پندرہ سال کیلئے ٹھیکے پر لی ہے ، مقامی بااثر افراد پولیس کے ذریعے درخواست گزار کو بے دخل کرنا چاہتے ہیں، درخواست گزار کی شکایات کے باوجود پولیس بااثر افراد کی حمایت کررہی ہے ، عدالت پولیس کو قبضے میں مداخلت سے روکنے کا حکم دے ۔