ریجنل ڈائریکٹوریٹ کالجز کراچی میں ترقیوں کا معاملہ پھر سامنے آگیا
اینٹی کرپشن کا فدا حسین خاصخیلی کی بھرتی ،تقرری سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع سروس ریکارڈ طلب ، پرانے مقدمات اور عدالتی ریکارڈ بھی دوبارہ کھول دیئے گئے
کراچی(سٹاف رپورٹر )ریجنل ڈائریکٹوریٹ کالجز کراچی میں مبینہ جعلی تقررناموں کے ذریعے بھرتیوں اور بعد ازاں ترقیوں کا معاملہ دوبارہ سامنے آگیا ہے ۔ اینٹی کرپشن سندھ نے فدا حسین خاصخیلی کی بھرتی، تقرری اور ترقیوں سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے محکمے سے مکمل سروس ریکارڈ طلب کر لیا ہے جبکہ تحقیقات کے دوران پرانے مقدمات اور عدالتی ریکارڈ بھی دوبارہ کھول دیئے گئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق 2011میں اس وقت کی ریجنل ڈائریکٹر کالجز رانی غنی شیخ نے گریڈ 7اور گریڈ 12کی آسامیوں کے لیے اشتہار جاری کیا تھا، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر اشتہار کے برعکس گریڈ 14 میں براہ راست بھرتیاں کی گئیں۔ الزام ہے کہ فدا حسین خاصخیلی، ریجنل ڈائریکٹر کے دو بیٹوں سمیت 10 افراد کو قواعد و ضوابط کے خلاف اسسٹنٹ (گریڈ 14)تعینات کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ان تقرریوں پر اعتراض کرتے ہوئے اکاؤنٹنٹ جنرل (اے جی)سندھ آفس نے انہیں غیر قانونی قرار دیا اور متعلقہ ملازمین کی تنخواہیں جاری کرنے سے انکار کردیا، جس پر متاثرہ افراد نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔عدالتی کارروائی کے دوران اس وقت کے ریجنل ڈائریکٹر کالجز نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ ریجنل ڈائریکٹر نے قواعد کے برخلاف براہ راست بھرتیاں کی تھیں۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ گریڈ 14 کی آسامیوں کے لیے نہ کوئی اشتہار جاری کیا گیا، نہ امیدواروں کے انٹرویو کا ریکارڈ موجود ہے اور نہ ہی تقررناموں کا کوئی سرکاری ریکارڈ دستیاب ہے ۔بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے یہ معاملہ سندھ سروسز ٹربیونل کو بھیج دیا، جہاں 2015 میں متاثرہ ملازمین کی درخواستیں خارج کر دی گئیں۔
دستاویزات کے مطابق اسی تنازع کے دوران 2012 میں فدا حسین خاصخیلی نے مبینہ طور پر ساز باز کے ذریعے اے جی سندھ آفس سے جونیئر کلرک (گریڈ 7)کے طور پر اپنی تنخواہ جاری کرا لی۔ بعد ازاں اے جی آفس میں ملازم کوڈ (آئی ڈی)بننے کے بعد مبینہ طور پر گریڈ 11 میں تقرری کا نیا تقررنامہ جاری کرایا گیا اور تنخواہ بھی اسی گریڈ کے مطابق اپ گریڈ کروا لی گئی۔ریکارڈ کے مطابق 2021 میں فدا حسین خاصخیلی کو گریڈ 17 میں ترقی دے کر شہید بے نظیر بھٹو گرلز کالج لیاری میں سپرنٹنڈنٹ تعینات کیا گیا جبکہ اس وقت وہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں ڈپوٹیشن پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی نے تصدیق کی کہ اینٹی کرپشن سندھ نے فدا حسین خاصخیلی کی بھرتی، تقرری اور ترقیوں سے متعلق مکمل سروس ریکارڈ طلب کیا تھا، جس کے بعد دستیاب ریکارڈ کی جانچ کرکے جواب اینٹی کرپشن کو ارسال کر دیا گیا ہے ۔ریجنل ڈائریکٹر کے مطابق محکمہ تعلیم کے ریکارڈ میں فدا حسین خاصخیلی کی بھرتی سے متعلق نہ کوئی اشتہار موجود ہے ، نہ ٹیسٹ یا انٹرویو کا ریکارڈ اور نہ ہی ان کی ابتدائی تقرری سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت دستیاب ہے ۔