سعودی ولی عہد کا ٹرمپ سے رابطہ،ایران پر امریکا کے بڑے حملے موخر

سعودی  ولی عہد  کا  ٹرمپ  سے  رابطہ،ایران  پر امریکا  کے  بڑے  حملے  موخر

ایران ، مشرق وسطیٰ ممالک کی درخواست پر حملہ موخر کیا،امریکا دوسری عالمی جنگ جیسی فوجی کارروائی کیلئے تیار تھا،یہ فیصلہ جلد معاہدے تک پہنچنے سے مشروط:امریکی صدر حملے روکنے کی کوئی درخواست نہیں کی،ٹرمپ کا بیان جھوٹ،مسلح افواج مکمل الرٹ،نمٹنے کیلئے تیار ،جب تک امریکا کارروائیاں جاری رکھے گا، آبنائے ہرمز بند رہے گی:ایران

واشنگٹن،ریاض،تہران(نیوز ایجنسیاں) امریکی  صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف حملے موخر کر دئیے ہیں، بشرطیکہ تہران کے ساتھ تیزی سے معاہدہ طے پا جائے ۔ ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مجھے ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے کسی بھی حملے کو روکنے کیلئے کہا ہے کیونکہ معاہدے کے طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر نئے حملے فی الحال روکنے پر اتفاق کیا ہے ، تاہم یہ اقدام کسی فوری معاہدے تک پہنچنے سے مشروط ہوگا۔ ٹرمپ کے مطابق ایران اور دیگر مشرق وسطیٰ ممالک کی درخواست پر حملے موخر کیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری  خطرے کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے ۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایسی فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا، جس کی شدت، طاقت اور عسکری صلاحیت دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا، ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک چارٹ شیئر کیا ہے ، جس میں اُن کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی پالیسیاں ایران کی کرنسی کو تباہ کر رہی ہیں اور ملک شدید مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے ۔

ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے چارٹ کے مطابق2025 کے آغاز میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 90 ہزار تومان تھی، جو جولائی2026 تک بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار تومان ہو گئی ہے ۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات تھیں کہ امریکا اور اسرائیل ایران پر نئے اور شدید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق کشیدگی بڑھنے سے خطے اور عالمی امن پر پڑنے والے اثرات پر ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ٹیلی فون کیا اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔بیان کے مطابق سعودی ولی عہد نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کو ترجیح دینے اور ایسے حالات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو سفارتی حل کی راہ ہموار کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد نے خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور وسیع تر کشیدگی کو روکنے پر بھی زور دیا۔ایک امریکی عہدیدار نے ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کو بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ہفتے کو صدر ٹرمپ سے بات کی اور ایران سے متعلق امریکی منصوبوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ،محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ کشیدگی میں کمی لائیں، حملوں سے گریز کریں۔دوسری جانب خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ قطر، امارات، ترکیہ اور پاکستان بھی امریکا پر زور دے رہے ہیں کشیدگی کم کرے ، اس حوالے سے قطری ثالثوں نے ایرانی وزیرخارجہ، وٹکوف اور عمانی اہلکاروں سے رابطے کیے ۔

تجزیہ کار رایان روزبیانی نے ایکس پر لکھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو آخری لمحات میں امن کی پیشکش خطے میں وسیع تر جنگ کو روکنے کی ایک اہم اور آخری کوشش ثابت ہو سکتی ہے ۔اُن کے بقول سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کو فون کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ ایران پر حملے نہ کریں۔رایان کا کہنا تھا کہ آنے والے چند گھنٹے یہ طے کر سکتے ہیں کہ آیا سفارت کاری کامیاب ہوتی ہے یا خطہ ایک بہت بڑی جنگ کی جانب بڑھتا ہے ۔تجزیہ کار ناداو پولاک نے ایکس پر لکھا کہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ٹرمپ ایران کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں کر پا رہے ۔اُن کے بقول ایران کسی بھی معاملے پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے اور ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے پر بھی آمادہ ہے ۔پولاک کا کہنا تھا کہ اب صدر ٹرمپ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں، وہ پہلے بھرپور فوجی طاقت استعمال کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور پھر سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور پاکستان انہیں کشیدگی کم کرنے پر قائل کر لیتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ اُمور کے ماہر دانی سیترینوفیتش کے مطابق سعودی عرب امریکا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر کسی بڑے امریکی حملے کی قیمت سب سے پہلے خلیجی ممالک کو چکانی پڑ سکتی ہے ۔اُن کے بقول اسی لیے ریاض اور دیگر خلیجی ریاستیں فوجی محاذ آرائی کے بجائے خطے میں استحکام اور سفارت کاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔

اگرچہ آبنائے ہرمز پر تنازع برقرار ہے ، لیکن فی الحال واشنگٹن بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کو نسبتاً بہتر راستہ سمجھ رہا ہے ۔اتوار کو ایران کے قائم مقام وزیر دفاع ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران اپنے مخالفین کی طرف سے ہر خطرے کو حقیقی اور قابل اعتبار سمجھتا ہے چاہے وہ نفسیاتی جنگ کا حصہ کیوں نہ ہو۔فوج اس سے نمٹنے اور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم نہ تو حیران ہیں اور نہ ہی غیر فعال، ہم خطرے کو اپنی تیاریوں کو آگے بڑھانے اور اپنی طاقت کو بڑھانے کے لیے بنیاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران نے امریکا سے نئے حملے نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے فوجی حکام کے حوالے سے اس بیان کو "جھوٹ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل الرٹ ہیں اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ جب تک امریکا اپنی مخالفانہ کارروائیاں اور "جارحانہ رویہ" ترک نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ایران کی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران نے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا اور یہ رپورٹس مکمل طور پر جھوٹی ہیں۔ادھر امریکی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے معاہدہ کرنے کی کوشش میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے ۔ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محمد مخبر کا کہنا ہے کہ ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں کا نتیجہ امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی ہوگی، ایرانی انفراسٹرکچر پرحملے کیے گئے تو میدان جنگ سے باہر اثرات ہوں گے ۔ایرانی نائب صدر محمدرضاعارف کا کہنا ہے کہ جنگ کی صورتحال کے باوجود ایران میں انتظامیہ نے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔

محمدرضاعارف نے کہا کہ ایران آئندہ 2 برسوں تک بدترین صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ کے وزیر خارجہ سے گفتگو میں امریکا کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطے کے حوالے سے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے گفتگو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے یا ایسی کارروائی میں خطے کے کسی بھی ملک کی شمولیت کا ایران متناسب جواب دے گا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی سے مراد لازمی طور پر حکومت کا مکمل خاتمہ نہیں، بلکہ اس کے کردار، نوعیت اور طرزِ عمل میں تبدیلی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایرانی حکومت کا رویہ ہمیشہ بیرونی مداخلت اور توسیع پسندانہ پالیسیوں پر مبنی رہا ہے ۔ وہ صرف ایران پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے بلکہ پورے خطے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کو تبدیل ہونا ہوگا اور اسے تبدیل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ان پر ایسا دباؤ ڈالا جائے جسے وہ مزید برداشت نہ کر سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...