خبردار ! قومی اسمبلی بھی سندھ تقسیم کی بات نہ کرے : مراد علی شاہ، صوبائی اسمبلی میں سخت تقریریں، نئے صوبوں کیخلاف قرارداد منظور

خبردار ! قومی اسمبلی بھی سندھ تقسیم کی بات نہ کرے : مراد علی شاہ، صوبائی اسمبلی میں سخت تقریریں، نئے صوبوں کیخلاف قرارداد منظور

ہمارا مطالبہ سندھ کی نہیں اختیار ات کی تقسیم:علی خورشیدی،یہ ایم کیو ایم کا دوغلا پن، کس کو بے وقوف بنا رہے ؟ کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کا فیصلہ کرینگے ؟وزیراعلیٰ قیامت کے دن بینظیر کو کیاجواب دینگے کہ سندھ بیچ دیا،جان دے دینگے سمجھوتا نہیں ہوگا،پنجاب میں بلدیاتی نظام ہی نہیں:فریال تالپور،تقسیم کی بات ہوگی تو وزارت کو لات ماردیں گے :سعید غنی جذباتی نعرے نہیں دلائل دیں:دلاور،آپکی جمہوریت صوبے میں آکر ختم:اپوزیشن لیڈر،متحدہ کا واک آؤٹ،پی ٹی آئی ،جماعت اسلامی کے ارکان آئے ہی نہیں، انہوں نے تاریخی موقع پر فلور چھوڑا:شرجیل

کراچی(سٹاف رپورٹر،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں پر چوتھے روز بحث کے دوران سخت تقریروں کے بعد نئے صوبوں کیخلاف قرارداد منظور کرلی گئی ، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا خبردار کرتے ہیں قومی اسمبلی بھی سندھ تقسیم کی بات نہ کرے ،سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کہیں اور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پیپلز پارٹی کی تحریک التوا پر چوتھے روز بھی بحث جاری رہی،اس دوران سخت تقریریں کی گئیں، جس کے بعد نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔ قرارداد پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نثار کھوڑو نے پیش کی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں، فیصلہ سندھ میں ہی ہونا ہے جس سے پتا چل جائے گا کہ کون ساتھ ہے اور کون دوغلا پن کر رہا ہے۔

سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرنا کسی صورت درست نہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ون یونٹ کے قیام کے معاملے پر بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا تھا، سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ نئے صوبوں کا فیصلہ ٹیلی ویژن پروگرام کے ذریعے نہیں اسمبلی میں ہونا ہے ۔لاہور میں ایک پروگرام کے دوران ’’دی سسٹم ہیز کولیپسڈ‘‘ کہا گیا اور اس پر تالیاں بجائی گئیں، سندھ کے معاملات پر غیر متعلقہ فورمز میں ہونے والی گفتگو تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کا فیصلہ کریں گے ؟۔وزیراعلیٰ سندھ نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصطفی کمال کہتے ہیں کہ وہ انتظامی یونٹس چاہتے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان یہاں کہتے ہیں کہ سندھ تقسیم نہیں ہونا چاہیے ، یہ دوغلا پن ہے ، ایم کیو ایم والے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟۔

مراد علی شاہ نے کہا ان میں سے ایک بھی انتخاب جیت کر نہیں آیا، بعض اراکین انتخاب کے بجائے مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان میں پہنچے ۔اگر یہ عوام کے ووٹ سے آئے ہوتے تو شاید ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ ان اراکین میں سے کسی ایک نے بھی عوام کے ووٹ سے کامیابی حاصل نہیں کی، ان کے انتخاب سے متعلق تفصیلات مناسب وقت پر سامنے رکھ سکتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم منظور نہیں کرتے ، دوسری جانب ان کی پیش کردہ تحریر اور مؤقف میں واضح تضاد نظر آتا ہے ، سندھ کی تقسیم کی مخالفت کے دعوے کے ساتھ ایسے نکات پیش کیے گئے جن پر سوالات اٹھتے ہیں، سندھ کی وحدت کے معاملے پر دوہرے مؤقف کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی بحث میں صرف آبادی کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر بات گورننس کی ہے تو اسے بہتر بنانے کیلئے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے۔

اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوسکتی ہے ، تاہم انتظامی امور کو سندھ کی تقسیم کے معاملے کے ساتھ مکس نہیں کیا جانا چاہیے ۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو سندھ میں مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بنائے جاسکتے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کو مزید مضبوط بنانا بھی حکومت کی ترجیح ہے ۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کیلئے قانون میں مزید ترامیم لانے پر بھی کام جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے تقریر کی تو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے اراکین نے واک آؤٹ کیا۔ پیپلزپارٹی کے رکن نثار کھوڑو نے سپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت لے کر قرارداد پیش کی تو ایوان میں پیپلزپارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ تاریخی دھرتی اور ناقابل تقسیم ہے ، سندھ نے قیام پاکستان کی قرارداد منظور کی، سندھ کی اسمبلی نے پاکستان میں شمولیت کی قرارداد منظور کی تھی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ میں کسی قسم کی تقسیم کو ایوان رد کرتا ہے ، سندھ کی موجودہ حدود میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہوگی، سندھ ایک ہے ہمیشہ ایک رہے گا۔ قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری پر پیپلزپارٹی کے اراکین بینچوں پر ’سندھ دھرتی ماں‘ کے بینرز ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوئے اور نعرے بازی بھی کی۔پیپلزپارٹی کی رہنما فریال تالپور نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو کسی صورت تقسیم ہونے نہیں دیں گے ،استعفیٰ دینا پڑے ، رکنیت جائے یا جان دینی پڑے تو دیں گے مگر سندھ کی تقسیم پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا سندھ ہماری، عوام، سندھیوں اور یہاں بسنے والوں کی دھرتی ہے ، سب کا فیصلہ ہے کہ کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی بات ہوگی، پاکستان کھپے کے بعد ہمارا نعرہ سندھ کھپے ہے ۔فریال تالپور نے کہا ہم بیرون ملک نہیں بھاگیں گے ، ہمارے بڑوں کی قبریں یہاں ہیں اور ہمیں بھی مر کر یہیں دفن ہونا ہے۔

انہوں نے کہا قیامت کے دن بینظیر بھٹو کو کیا جواب دو گے ، وہ ہمیں گریبان سے نہیں پکڑیں گی کہ میں اور میرے والد سندھ کیلئے جانیں دے کر آگئے اور تم نے سندھ کو بیچ دیا۔فریال تالپور نے کہا تالپوروں نے جنگیں اور لڑائیاں کیں، میرپور کے میر شیر محمد تالپور تھے جنہیں سندھ کا شیر کہا گیا اور وہ میرے شوہر کے دادا تھے جو سندھ کیلئے لڑتے رہے اور گردن نہیں جھکائی، ہم بھی اپنی آنے والی نسلوں کیلئے سندھ کی وحدانیت کا دفاع کریں گے ۔فریال تالپور نے کہا سندھ میں بہت اچھا اور مضبوط بلدیاتی نظام ہے مگر اس پر مزید بات ہوسکتی ہے ، جبکہ پنجاب میں تو بلدیاتی نظام ہی نہیں ہے ۔ میں خود مشرف دور میں ناظم بنی جبکہ بلدیاتی نظام کے تحت ہی بینظیرآباد اور لاڑکانہ میں کام ہوا، جو آج بھی نظر آئے گا۔پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا سندھ کی تقسیم کی بات ہوگی تو وزارت کو لات ماریں گے ، ضرورت پڑی تو جان دیں گے ، پشتو، سرائیکی، پنجابی جو سندھ کو اپنی ماں مانتے ہیں انہیں اعتراض نہیں، جو سندھ کو دھرتی ماں مانتا ہے اسے کوئی اعتراض نہیں۔ جب سندھ کی تقسیم، نفرت کی بات کریں گے تو لوگوں کا حق ہے سوال کریں۔

انہوں نے کہا آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کے پیچھے مقاصد، ایجنڈا کیا ہے ، اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کیلئے کسی کے کہنے پر ایسا نہ کریں۔ہماری اور آپ کی نسلیں یہاں رہیں گی، سندھ کی تقسیم سے نفرتیں پیدا ہوں گی، دشمن قوتیں اسے استعمال کریں گی، سیاست دانوں کا کام ہے ماحول اس نہج تک نہ لے کر جائیں، کچھ لوگ یہاں افرا تفری پھیلانا چاہتے ہیں۔پی پی رہنما نے کہا اللہ کا شکر ہے بلوچستان جیسے حالات یہاں نہیں، ضرورت ہے اس ملک میں رہنے والے لوگوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا ہو، جو ہم کر رہے ہیں اس سے چیزیں ہاتھوں سے نکل جائیں گی، حالات ٹھیک کرنے کی کوشش کریں خراب نہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو سندھ میں رہتا ہے سندھ اس کا ہے ۔انہوں نے کہا پنجاب، کے پی میں نئے صوبوں کا فیصلہ اسمبلیاں کریں،سندھ اسمبلی واضح کرچکی ہے نیاصوبہ نہیں بنے گا۔ایم کیو ایم کے رکن محمد دلاور نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘ کا نعرہ سننے کو ملا، سندھ پر مختلف ادوار میں حکومت کرنے والے حکمران باہر سے آئے تھے۔

محمد دلاور نے کہا کہ انتظامی یونٹس بننے سے کیا فائدہ یا نقصان ہوگا، اس پر پی پی پی نے کوئی مؤقف نہیں دیا۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس پر جذباتی نعروں کے بجائے دلائل دئیے جانے چاہئیں۔ قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا یہ قرارداد ڈھکوسلہ ہے ، پورا ایوان نثار کھوڑو کو تحریک التوا پر مبارکباد دے رہا ہے ، سمجھ نہیں آ رہی کس بات کی مبارکباد دی جا رہی ہے ؟ ۔انہوں نے کہا یہ ایوان کئی بار سندھ کی تقسیم کو مسترد کر چکا ہے پھر بار بار پیپلز پارٹی کو یہ قرارداد کیوں لانی پڑتی ہے ؟ ،میرے ایک رکن نے کہا کہ ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے چار دنوں سے تقاریر کیوں ہو رہی ہیں؟۔ علی خورشیدی نے کہا تاثر دیا جا رہا ہے کہ سندھ کی حامی صرف پیپلز پارٹی ہے اور باقی سب سندھ کے دشمن ہیں۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے بد انتظامی سب سے زیادہ سندھ میں ہے ۔یہ اپنی ذہنی اختراع نکال رہے ہیں، اس قرارداد پر بحث ہونی ہی نہیں چاہے تھی، فضول کی بحث چھیڑی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم ہے ۔ ہم نے کہا تھا نئے انتظامی یونٹ بنیں ،سندھ کے 6 ڈویژن انتظامی یونٹ ہیں، اٹھارویں ترمیم کی روح کے مطابق ان کو بااختیار کریں۔ آپ کی جمہوریت وفاق سے صوبے میں آکر ختم ہو جاتی ہے ۔انہوں نے کہا سندھ اسمبلی کے 102 ارکان میں سے 98 نے ون یونٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا ،فیصلہ ہوتا ہے ، تاریخ طے کرتی ہے ۔علی خورشیدی نے کہا کہ کھڑے ہو کر قرارداد پیش کرنا ڈھکوسلہ ہے ۔ ان کے وزیروں کے پاس اختیار نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں صوبے کو بہتر بناؤ۔انہوں نے کہا پیپلز پارٹی قراردادوں اور تحاریک التوا کے ذریعے اپنی بیڈ گورننس کو چھپانے کی کوش کرتی ہے ، ہم ایسی قرارداد کو قبول نہیں کرتے اور اسی لیے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔اس کے بعد علی خورشیدی سمیت ایم کیو ایم کے تمام اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ارکان آئے ہی نہیں۔ پی پی رہنما شرجیل میمن نے کہا کہ ان لوگوں نے تاریخی موقع پر فلور چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ علی خورشیدی کا واک آؤٹ پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کا حصہ تھا، وہ تاریخی دن پر ووٹنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے ، ایم کیو ایم نے بہانہ بنا کر اسمبلی کا فلور چھوڑ دیا۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ تاریخی موقع پر ایم کیو ایم نے تاریخی قرارداد کا حصہ بننے سے خود کو دور کر لیا۔شرجیل میمن نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا جس طرح پی ٹی آئی نے آج بائیکاٹ کیا، ایم کیو ایم بھی واک آؤٹ کر کے ایوان سے باہر چلی گئی، گزشتہ روز پی ٹی آئی اراکین کہہ رہے تھے وہ قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے ۔ آج پی ٹی آئی کا مؤقف سندھ کے سامنے واضح ہوگیا۔ جماعت اسلامی کا مؤقف بھی آج سندھ کے عوام کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔ انہوں نے کہا صوبوں ، انتظامی یونٹس کا فیصلہ اسمبلیوں کو کرنا ہے ۔سپیکر نے ایم کیو ایم اراکین سے واک آؤٹ نہ کرنے کی اپیل بھی کی لیکن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...