تجارت سہولت بورڈ کے قیام کی منظوری، بندرگاہوں کی استعداد بڑھائی جائے : شہباز شریف
بورڈ سپلائی چین میں بہتری کیلئے اقدامات،نان ٹیرف امور پرفیصلے کرے گا،ورکنگ گروپس بنانے کی ہدایت دانش یونیورسٹی ،جناح میڈیکل کمپلیکس سے متعلق بھی جائزہ،پمز کی نر س سے ملاقات ، ایک کروڑ کا چیک دیا
اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے تجارت سہولت بورڈ (ٹریڈ فیسلی ٹیشن بورڈ) کے قیام کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم خود ٹریڈ فیسلی ٹیشن بورڈ کی صدارت کریں گے ۔ شہباز شریف کی زیر صدارت تجارت میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا ۔ مجوزہ بورڈ تجارت کے مکمل سپلائی چین میں بہتری لانے اور سرحد پار تجارت سے متعلق تمام نان ٹیرف امور پر فیصلے کرے گا۔یہ بورڈ تجارت کے فروغ کے حوالے سے سے روڈ میپ ، ٹریڈ فسیلی ٹیشن انڈیکس اور مانیٹرنگ کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دے گا۔وزیراعظم نے ملک کی بندرگاہوں کی استعداد کار میں بہتری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے اور مختلف ورکنگ گروپس بنانے کی ہدایت کی۔ورکنگ گروپس بندرگاہوں کی استعداد بہتر بنانے ، متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ ، ریگولیٹری فریم ورک کی تعمیل، پری ارائیول کلیئرنس اور بین الاقوامی تجارت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی شمولیت سے متعلق ہوں گے۔
وزیراعظم نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کیلئے بندرگاہوں پر مال کی ترسیل، کلیئرنس اور دیگر امور کو آسان بنانے اور زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔بریفنگ میں بتایاگیاکہ جاری اصلاحات کے تحت پورٹ چارجز میں کمی کی گئی ہے ، جسکے بعد بندرگاہوں کے استعمال میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔جہازوں کی آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔دریں اثنا وزیراعظم نے دانش یونیورسٹی پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور کہا دانش یونیورسٹی کے قیام کے پیچھے مرکزی محرکات میں سے اولین، غریب و متوسط طبقے کے طلباء و طالبات کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی ہے ۔یونیورسٹی کی تعمیر کی معینہ مدت کے ساتھ منصوبے کی تفصیلات آئندہ دو ہفتوں میں مرتب کرکے پیش کی جائیں۔
انہوں نے کہا دانش یونیورسٹی کے قیام میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اسکا نظام روایتی یونیورسٹیوں سے ہٹ کر اور بہترین رکھا جائے ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی میں بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے ڈگری یافتہ عالمی شہرت کی حامل فیکلٹی کی تدریسی خدمات حاصل کی جائیں گی جس کیلئے فیکلٹی کے ساتھ ساتھ امریکا کے معروف کالج کی خدمات حاصل کرنے کیلئے اقدامات حتمی مراحل میں ہیں۔جناح میڈیکل کمپلیکس و ریسرچ سینٹر اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک فیز 2 ایکسٹینشن کی تعمیر کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا عوام کو صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔صحت کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کو تیز تر کیا جائے ۔اجلاس میں مجوزہ جناح میڈیکل کمپلیکس و ریسرچ سینٹر کی عمارت کی تعمیر کے حوالے سے مختلف تعمیراتی ڈیزائن اور تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس کو پولی کلینک فیز 2 ایکسٹینشن کی تعمیر میں پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں سیکٹر جی 11 میں زیر تعمیر فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ایکسٹینشن کو جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے فیز کے طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،بتایا گیا کہ اس فیصلے کا مقصد ہسپتال کو جلد فعال کرنا اور شہریوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے ۔وزیراعظم نے جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے فیز کو مارچ 2027 تک مکمل کرنے اور جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کے پہلے فیز کو جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنانے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھانے اوراس ہسپتال میں جدید اور ہائی ٹیک مشینری کی تنصیب یقینی بنائی جانے کی ہدایت کی ۔علاوہ ازیں وزیراعظم سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری اقدامات، منصوبوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شہباز شریف نے کہا ملک کا نوجوان ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
حکومت نوجوانوں کو جدید تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کو مزید مؤثر، نتیجہ خیز اور نوجوانوں کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے ، جبکہ ترجیحی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے ۔شہباز شریف سے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں وفاقی وزیر نے وزیراعظم کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق امور، بالخصوص جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی اور خوشحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
شہباز شریف نے اسلام آباد میں نیپال کے سفارتخانے کا دورہ کیا اور نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی یاد کے حوالے سے تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے ۔وزیراعظم کا نیپال کی سفیر ریٹا دھیتال نے سفارتخانے پہنچنے پر استقبال کیا۔وزیراعظم نے نیپال کیلئے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور امید ظاہر کی کہ نیپال کے باہمت عوام اس سانحے سے مزید مضبوط ہو کر ابھریں گے ۔وزیراعظم نے پمز آتشزدگی واقعہ میں اپنی جان پر کھیل کر نومولود کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات کی اور ان کی ہمت اور جذبے کی تعریف کی ۔
شہباز شریف نے رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک دیا اورکہا 23 مارچ کو رضیہ نورین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں تمغہ خدمت دیا جائے گا۔رضیہ نورین نے کہا کہ وہ اس حوصلہ افزائی پر خوش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی دیگر ساتھی نرسز بھی اتنی ہی محنت اور لگن سے کام کرتی ہیں، یہ بڑا دل خراش واقعہ تھا۔ انہو ں نے بتایا کہ انہوں نے آگ کو دیکھا اور جان کی پروا کئے بغیر اندر چلی گئیں۔انہوں نے ایک چھوٹی بچی آصفہ کو بچایا اور باہر لا کر جلدی سے ڈاکٹرعبدالرحمن کے حوالے کیا تاکہ رش میں وہ محفوظ ہاتھوں میں رہے اور دوسرے بچوں کی جان بچانے کی بھی کوشش کی لیکن ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا، آگ تیزی سے پھیل گئی اور اچانک اندھیرا ہو گیا اور دھواں پھیل گیا۔ انہوں نے حوصلہ افزائی پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments