پاکستان پوسٹ کا 3سال میں 41ارب سے زائد خسارہ
2023-24 میں ساڑھے 13 ارب ، 2024-25 میں 13 ارب 29 کروڑ خسارہ ہوا
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) ملک کا سرکاری ڈاک ادارہ پاکستان پوسٹ مسلسل خسارے کا شکار ہے اور ہر سال اپنی آمدن سے دوگنے اخراجات کر رہا ہے ۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان پوسٹ کو 41 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوا ہے ۔روزنامہ دنیا کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان پوسٹ نے مالی سال 2023-24، 2024-25 اور 2025-26 کے دوران 41 ارب روپے سے زائد کا خسارہ کیا۔ مالی سال 2023-24 میں خسارہ 13 ارب 50 کروڑ روپے ، 2024-25 میں 13 ارب 29 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 14 ارب 81 کروڑ روپے رہا۔پاکستان پوسٹ کی آمدن اور اخراجات میں بھی ہر سال نمایاں فرق رہا۔ مالی سال 2023-24 میں ادارے کی آمدن 9 ارب 25 کروڑ روپے سے زائد تھی جبکہ اخراجات 22 ارب 75 کروڑ روپے سے زائد رہے ۔ 2024-25 میں آمدن 10 ارب 14 کروڑ روپے اور اخراجات 23 ارب 43 کروڑ روپے تھے جبکہ 2025-26 میں آمدن 9 ارب 40 کروڑ روپے اور اخراجات 24 ارب 21 کروڑ روپے رہے۔
پاکستان پوسٹ نے ان تین سالوں کے لیے مقررہ آمدن کے اہداف بھی حاصل نہیں کیے ۔ مالی سال 2023-24 میں 10 ارب 1 کروڑ 90 لاکھ روپے کے ہدف کے مقابلے میں 9 ارب 25 کروڑ 50 لاکھ روپے حاصل کیے گئے ۔ 2024-25 میں 12 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 10 ارب 14 کروڑ روپے ، جبکہ 2025-26 میں 13 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 9 ارب 40 کروڑ روپے حاصل ہوئے ۔پاکستان پوسٹ کو مالی مشکلات کے باعث ڈاک کی ترسیل کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا ہے جن ایئر لائنز کے ذریعے ڈاک لائی جاتی تھی، انہوں نے ڈاک لانا بند کر دیا ، صرف پی آئی اے رہ گئی ہے اور وہ بھی ادارے کو نوٹسز جاری کر رہی ۔ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مسائل ہیں جبکہ پاکستان ریلوے اور پرنٹنگ پریس کے اربوں روپے کے بقایاجات کے حوالے سے بھی ادارے کو نوٹسز موصول ہو رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments