کسان اتحاد کا گندم کی امدادی قیمت 5ہزار کرنے کامطالبہ

کسان اتحاد کا گندم کی امدادی قیمت 5ہزار کرنے کامطالبہ

حکومت اضافی چینی فروخت کرکے کسان کو بہتر معاوضہ دلوائے :مرکزی صدر 3 سال سے کاشتکار پر ظلم ہو رہا ، زراعت کا خسارہ 6 ارب ڈالرز:پریس کانفرنس

لاہور (کامرس رپورٹر)کسانوں کا اضافی چینی ایکسپورٹ کرنے کا مطالبہ، گندم کی سپورٹ پرائس 5 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا ۔لاہور پریس کلب میں دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد کھوکھر نے کہا کہ 2017 والا معاملہ اس بار نہ دہرایا جائے ، عالمی منڈی میں چینی کی اچھی قیمتوں سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 500 ڈالر فی ٹن ہے ، ریبیٹ دینے کی بھی ضرورت نہیں، حکومت اضافی چینی فروخت کرکے گنے کے کسان کو بہتر معاوضہ دلوائے ۔ 2017 میں کسانوں نے کہا تھا کہ چینی اضافی ہے ، ایکسپورٹ کریں لیکن نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں کسانوں کو گنے کی مد میں 110 ارب روپے کم ملے ۔ اس بار گنا 16 فیصد زیادہ کاشت ہوا ہے ، اگر چینی بروقت ایکسپورٹ نہ کی گئی تو کاشتکار کو گنے کا اچھا ریٹ نہیں ملے گا اور یہ گنے کے کاشتکار کا معاشی قتل ہوگا۔

تین سال سے کاشتکار پر ظلم ہو رہا ہے ، صرف زراعت کا خسارہ 6 ارب ڈالرز کا ہے ۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری ہی نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت اور زراعت سب بند ہو رہی ہے ۔ کاشتکار کے پاس نہ سستی زرعی مداخل ہیں نہ سستا اور معیاری بیج ہے ، کوئی ادارہ اور کوئی حکومت اس پر بات کرنے کو تیار نہیں۔اس وقت ہم گڑھے کے سامنے نہیں بلکہ گڑھے میں گر چکے ہیں، اس گڑھے سے سچے اور ایماندار لوگ ہی نکال سکتے ہیں۔15 دن بعد گندم کی کاشت شروع ہو جائے گی لیکن پنجاب حکومت ابھی تک میٹنگ میٹنگ کھیل رہی ہے ۔ کپاس کے عالمی دن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کسان رہنما نے کہا کہ کیا آئی ایم ایف کہتا ہے کہ زراعت کو برباد کر دیں؟ پالیسی بنائی بھی جائے تو سٹیک ہولڈر کسان کو شامل ہی نہیں کیا جاتا، ڈی سی دودھ دہی کا ریٹ طے کرتا ہے ، کیا ڈی سی نے کبھی بھینسیں، گائے پالی ہیں؟۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...