لاریفارمز کمیٹی کااجلاس ،بجلی معاملات پر شکایات کے انبار

 لاریفارمز کمیٹی کااجلاس ،بجلی معاملات پر شکایات کے انبار

لٹکتی بجلی کی تاروں کو ’’موت کا سامان‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری حل کا مطالبہ بجلی چوری کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالنے پر ارکان کی تشویش

لاہور (سیاسی نمائندہ) پنجاب اسمبلی میں بجلی کی اووربلنگ، لٹکتی تاروں، بجلی چوری، غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کے حادثات میں متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے  معاملات پر اہم اجلاس ہوا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت لا ریفارمز کمیٹی اور سپیشل کمیٹی نمبر 16 کے مشترکہ اجلاس میں ارکان کمیٹی نے بجلی کے معاملات پر شکایات کے انبار لگا دئیے اور لٹکتی بجلی کی تاروں کو ’’موت کا سامان‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ سپیکر ملک محمد احمدنے کہا کہ لٹکتی تاریں موت کو آواز دیتی ہیں۔اجلاس میں بجلی چوری کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالنے پر ارکان اسمبلی نے تشویش کا اظہار کیا۔ ملک احمد سعید نے کہا کہ بجلی چوری کرنے والوں کی بجائے بل ادا کرنے والے صارفین کو سزا دینا ناقابل قبول ہے ۔ اووربلنگ کے معاملے پر سپیکر ملک محمد احمد نے کہا کہ اووربلنگ کو ٹھیک کرواتے کرواتے مہینوں لگتے ہیں اور صارف کو تین دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کے معاملے پر احسن رضا خان نے کہا کہ غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کو روکنے کے لیے ایوان قرارداد بھی منظور کر چکا ہے ۔ لیسکو چیف رمضان بٹ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زیرو نقصان والے فیڈرز پر زیرو لوڈشیڈنگ اور زیادہ نقصان والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے ۔ارکان کمیٹی نے سوال کیا کہ جو صارفین باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں ان کا کیا قصور ہے ۔اجلاس میں بجلی کے ٹرانسفارمرز اور صارفین کی مشکلات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ نورالامین وٹو ،سمیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ لیسکو سے رابطے پر افسران کی جانب سے رسپانس نہیں ملتا۔سپیکر ملک محمد احمد نے ہدایت کی کہ اجلاس میں آج جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان پر اگلے اجلاس میں لیسکو چیف جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے اجلاس میں بجلی چوری کی روک تھام اور لٹکتی تاروں کے خاتمے سے متعلق جواب دیا جائے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...