2 سال تک پولیس کیا کرتی رہی؟:ہائیکورٹ، مغویہ کو آج پیش کرنیکا حکم

2 سال تک پولیس کیا کرتی رہی؟:ہائیکورٹ، مغویہ کو آج پیش کرنیکا حکم

کیا لوگ پولیس کے بجائے کام خود کرنا شروع کر دیں؟:چیف جسٹس، آئی جی سے استفسار جعلی رجسٹریاں کیس کی بھی سماعت، سربراہ محکمہ اینٹی کرپشن سہیل چٹھہ بھی آج طلب

لاہور (کورٹ رپورٹر) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے توہین عدالت کی درخواست پر پولیس کو 16 سالہ مغویہ سکینہ بی بی کو آج عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ مغویہ کی والدہ سعدیہ کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم اور سی پی او فیصل آباد تنویر حسین پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا ‘‘آپ دیکھیں آپ کے انڈر کیا ہو رہا ہے ؟ اگر کوئی لڑکی گھر نہ پہنچے تو پولیس کیا کرے گی؟ دو سال تک پولیس کیا کرتی رہی؟ کیا لوگ پولیس کے بجائے اپنا کام خود کرنا شروع کر دیں؟’’ عدالت نے مغویہ کو آج بدھ کے روز پیش کرنے کا حکم دے دیا۔دوسری  جانب چیف جسٹس نے 6 جعلی رجسٹریاں کرنے کے کیس میں رجسٹری محرر جھنگ تاج دین کی درخواست ضمانت پر محکمہ اینٹی کرپشن کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

عدالت نے تفتیشی افسر اینٹی کرپشن کی غلط بیانی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد کو بھی طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا ‘‘غلط رپورٹ کیوں دی؟ یہ سب مل کر کام کرتے ہیں، حصہ ملتا رہے تو چپ رہتے ہیں، جب نہ ملے تو مقدمہ درج کرا دیا۔ 2020 سے پولیس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی، اب انکوائری کی بجائے سیدھا مقدمہ درج کر دیا۔’’علاوہ ازیں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کیلئے دائر درخواست پر صوبہ بھر کے آر پی اوز اور ہسپتالوں کے ایم ایس سے تفصیلی رپورٹس 29 اکتوبر تک طلب کر لیں۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلڈنگ کوڈ اور فائر ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ سماعت کے دوران فیسکو، گیپکو، لیسکو، این ڈی ایم اے ، ایل ڈی اے ، ریسکیو اور پولیس نے جوابات جمع کرا دیے ، جبکہ والڈ سٹی کے وکیل بیماری کے باعث پیش نہ ہو سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...