مکہ معاہدہ کے کوئی خفیہ نکات نہیں:دفترخارجہ

مکہ معاہدہ کے کوئی خفیہ نکات نہیں:دفترخارجہ

پاک سعودیہ طریقہ کارطے ، ترکیہ پارلیمنٹ سے توثیق کروا رہا :ترجمان بیرونی جارحیت پر تینوں ملک مشترکہ غور و خوص کے بعد فیصلہ کرینگے حوثی حملوں پرمعاہدہ کے تحت تینوں ممالک کو فیصلہ کرنا ہوگا:ہفتہ وار بریفنگ

اسلام آباد (وقا ئع نگار)ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ مشترکہ دفاع اور علاقائی سلامتی کیلئے پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے عزم کا عکاس ہے ،پاکستان اور سعودی عرب نے اس معاہدے کی توثیق کے اپنے مراحل مکمل کرلیے ہیں۔دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم ترک پارلیمان میں پیش ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کرتے ہیں، اس کے علاوہ معاہدے کے کوئی خفیہ نکات نہیں ہیں، مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا ہر ملک کا اپنا طریقہ کار ہے ۔پاکستان اور سعودی عرب اپنا طریقہ کار مکمل کرچکے ہیں، ترکیہ اپنی پارلیمنٹ سے اس معاہدے کی توثیق کروا رہا ہے ، مکہ دفاعی معاہدے کا جو مسودہ باہر آچکا ہے اس کو تسلیم کر رہے ہیں۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مشترکہ دفاع ڈیٹرنس اور علاقائی سلامتی کا مظہر ہے ، دفاعی معاہدے کی شقیں کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ مشترکہ دفاع کیلئے ہیں، کسی بیرونی جارحیت کے تناظر میں تینوں ملک مشترکہ غور و خوص کے بعد فیصلہ کریں گے ۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو بھارتی حکومت کی جانب سے مبینہ بے دخلی نوٹس جاری کیے گئے جس پرپاکستان اس پیش رفت پر شدید تشویش رکھتا ہے ۔

تاریخی مسجد کو وقف املاک اور ورثے کے مقام کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے ، تاہم اسے مبینہ طور پر انہدام کے خطرے کا سامنا ہے ۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لے ، بھارتی حکام کو امتیازی اقدامات سے باز رہنے کی تلقین کرے اور مسلم مذہبی ورثے اور عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کرے ۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے متن اور اس کی منظوری سے متعلق سوالات پر ترجمان نے کہا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یہ معاہدہ اجتماعی دفاع، علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔معاہدے کی توثیق اور عملی نفاذ سے متعلق امور تینوں ممالک کے درمیان زیر بحث ہیں، جن میں سٹر ٹیجک ، سیاسی اور دفاعی کمیٹی بھی شامل ہے ۔ معاہدے کی شق دوم سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس کا تعلق کسی ایک مخصوص ملک کے خلاف کارروائی سے نہیں بلکہ کسی فریق کے خلاف بیرونی مسلح جارحیت کی صورت میں اجتماعی معاونت کے فریم ورک سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاونت کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین تینوں ممالک حالات کا معروضی جائزہ لے کر اور معاہدے کی دفعات کے مطابق مشترکہ طور پر کریں گے ۔ ترجمان نے اسے اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 میں تسلیم شدہ حقِ دفاع سے ہم آہنگ قرار دیا۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ معاہدے میں کوئی خفیہ شقیں نہیں ہیں اور ترکیہ کی پارلیمان میں پیش کیے گئے 16 نکات کے متن کی توثیق کرتے ہیں۔سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں معاہدے کے اطلاق کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ معاہدے کے تحت تینوں شریک ممالک کو کرنا ہوگا۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے ، اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...