پی سی بی کا سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم تبدیل، نیا ماڈل متعارف

پی سی بی کا سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم تبدیل، نیا ماڈل متعارف

سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں 5الگ فارمیٹ ٹریکس قائم،نیا نظام رواں کنٹریکٹ سائیکل سے نافذ ،ٹیسٹ سپیشلسٹس عالمی فرسٹ کلاس ریڈ بال لیگز کھیلنے کی اجازت

لاہور (سپورٹس ڈیسک) چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیر قیادت بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹس سسٹم میں اہم تبدیلیوں کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد سٹرکچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے ۔ نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے ،ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔ پرانے نظام میں کھلاڑیوں کو اے ، بی ، سی اور ڈی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا تھا، جو صرف معاوضے کی سطح کو ظاہر کرتی تھیں۔ لیکن نئے نظام میں انکی جگہ پانچ واضح فارمیٹ ٹریکس متعارف کرائے گئے ہیں۔ٹریک اے بی دوہرا فارمیٹ (ٹیسٹ اور ون ڈے ) ۔ اس فارمیٹ کا حصہ پاکستان کے وہ نمایاں کھلاڑی بنیں گے جو کہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کی بنیاد ہیں۔

یہ بورڈ کی پرائم کیٹیگری ہوگی۔ٹریک اے ریڈ بال سپیشلسٹ (ٹیسٹ کرکٹ) ، اس فارمیٹ سے وابستہ کھلاڑی مکمل طور پر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے وقف ہوں گے ۔ اس ٹریک کا مقصد ٹیسٹ سپیشلسٹس کو تحفظ اور فروغ دینا ہے ۔ٹریک بی سی وائٹ بال (ون ڈے اور ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل، اس فارمیٹ سے وہ کھلاڑی وابستہ ہوں گے جو محدود اوورز کی کرکٹ کے سپیشلسٹ ہوں گے ۔ٹریک ڈی ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل اور فرنچائز سپیشلسٹ، یہ کیٹیگری مختصر فارمیٹ کے ماہر کھلاڑیوں کیلئے ہو گی جنہیں قومی ذمہ داریوں کے ساتھ فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔ ٹیسٹ کرکٹ سپیشلسٹس کو پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال مقابلہ جاتی لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ اجازت مختصر فارمیٹ نہیں بلکہ صرف ریڈ بال کرکٹ کے لیے ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد ٹیسٹ کرکٹرز کو دنیا کے سخت ترین فرسٹ کلاس ماحول میں تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مزید بہتر ہو کر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں