مویشیوں کے انخلا کے نام پر کرپشن مقدمات کا اعلان

مویشیوں کے انخلا کے نام پر کرپشن مقدمات کا اعلان

میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کی ریگولیشن برانچ کے بعض ملازمین کی کرپشن بے نقاب ہو گئی ، جونیئر کلرک طاہر منظور شاہ مال بناے میں مصروف،ویڈیو سامنے آ گئی

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )شہری حدود سے مویشیوں کے انخلا کے نام پر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کی ریگولیشن برانچ کے بعض ملازمین کی مبینہ کرپشن کا سنگین معاملہ سامنے آ گیا ہے ۔ کرپٹ عناصر نے وزیراعلیٰ کے واضح احکامات اور ڈویژنل کمشنر کی سخت ہدایات کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے سرکاری مہم کو مبینہ طور پر کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔وزیراعلیٰ کی ہدایات پر شہری حدود سے مویشیوں کے انخلا کے لیے بھرپور کارروائی کا آغاز کیا گیا، تاہم بعض انکروچمنٹ انسپکٹرز نے پرانی روش اختیار کرتے ہوئے اس مہم کو مبینہ طور پر رشوت خوری کا ذریعہ بنا لیا۔ذرائع کے مطابق جونیئر کلرک طاہر منظور شاہ، جسے انکروچمنٹ انسپکٹر کا اضافی چارج دیا گیا ہے ، نے مویشیوں کے انخلا کی ذمہ داری کو مبینہ طور پر ذاتی کمائی میں تبدیل کر لیا۔ طاہر منظور پر الزام ہے کہ اس نے بیلدار شہباز پہلوان اور ایک پرائیویٹ شخص کو بطور فرنٹ مین استعمال کرتے ہوئے نشاط آباد گٹی گرڈ کے قریب بھینسیں رکھنے والے مالکان پر دباؤ ڈالا اور فی بھینس 5 ہزار روپے جرمانے کی دھمکی دے کر فی بھینس ایک ہزار روپے رشوت طلب کی۔

اس سلسلے میں بیلدار شہباز پہلوان اور ایک پرائیویٹ شخص کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے ، جس میں انہیں فی بھینس ایک ہزار روپے میں معاملہ طے کرتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو شہر کی ایک اہم سیاسی شخصیت نے خود چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد مرتضیٰ ملک کو ارسال کی، جس پر انہوں نے فوری کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ انکروچمنٹ انسپکٹر مبینہ طور پر شہر کے دیگر علاقوں سے بھی پرائیویٹ افراد کے ذریعے ماہانہ لاکھوں روپے رشوت وصول کرتا رہا،معاملے پر مؤقف دیتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد مرتضیٰ ملک نے بتایا کہ واقعے کی باقاعدہ انکوائری جاری ہے ، اور گناہ ثابت ہونے پر انکروچمنٹ انسپکٹر طاہر منظور شاہ، بیلدار شہباز پہلوان اور ملوث پرائیویٹ شخص کو نوکری سے برطرف کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کروائے جائیں گے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں