ریاست اور سماج ایک ہی موضوع کی گرفت میں ہیں۔ اس نے ہمیں جمود کا شکار کر دیا ہے۔ ہم متحرک دکھائی دیتے ہیں مگر ورزش کی سائیکل پر سوار اس کھلاڑی کی طرح جو کئی میل کا سفر طے کرنے کے باوجود ایک ہی مقام پر کھڑا رہتا ہے۔ بطور کالم نگار‘ میں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
قائداعظم پر دو کالم لکھے۔ یہ کالم بہت کم لوگوں کو متوجہ کر سکے۔ جیسے اس موضوع کی کوئی طلب نہ ہو۔ قائداعظم کون تھے؟ آج ہم ان کے نظریات سے کس طرح استفادہ کر سکتے ہیں؟ اندازہ ہوا کہ آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کو ان سوالات سے دلچسپی ہے۔ یہی نہیں‘ تعلیم‘ سماجی تبدیلی‘ معاشرے کی اخلاقی ساخت‘ اس طرح کے کسی موضوع پر ایک عمومی سرد مہری ہے۔ کالم نگار کی مجبوری یہ ہے کہ وہ رائے عامہ کے پانی میں تیرتا ہے۔ اگر یہ آبِ رواں میسر نہ ہو تو اس کا زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر لوگ قائداعظم کے بارے میں کچھ جاننے کے خواہشمند نہیں ہیں تو یہ سماج کی طرف سے خاموش پیغام ہے کہ موضوع کو بدلا جائے۔ اگر لوگ سماجی تعمیر پر کچھ پڑھنے کا شوق نہیں رکھتے تو اس کا مطلب ہے کہ اس موضوع سے گریز کیا جائے۔
پھر آج کا موضوع کیا ہے؟ اس کا دو لفظی جواب ہے: عمران خان۔ صرف اسی ایک موضوع پر لوگ ردِعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ حمایت کرو تو تعریف کے پھول نچھاور ہوتے ہیں۔ تنقید کرو تو گالیوں کی گرد میں آپ کا وجود اَٹ جاتا ہے۔ شریف خاندان کیلئے اگر تعریفی جملہ سرزد ہو جائے تو پھر ہفوات کادر کھل جاتا ہے جو بند ہو نے کو نہیں آتا۔ دفاعی ادارے کی جائز تعریف بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ معلوم ہوتا ہے ایک حکمتِ عملی کے تحت خان صاحب پر تنقید کرنے والوں کا ناطقہ بند کرنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ دشنام پر مبنی ایک ہی مضمون کا تبصرہ مختلف ناموں سے بھیجا جاتا ہے۔ یہی معاملہ سوشل میڈیا کا بھی ہے۔ ایک بھرپور مہم ہے کہ صرف عمران خان صاحب پر بات ہو اور وہ بھی مدح میں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ لکھنے والا ہتھیار ڈال دے؟ وہ قائداعظم پر بھی قلم نہ اٹھائے کہ یہاں ان سے دلچسپی رکھنے والا کوئی نہیں؟ کیا سنجیدہ قاری باقی نہیں رہا؟
ان سوالات کے کئی ممکنہ جواب ہیں۔ یہ باور کرنا تو ممکن نہیں کہ ساری قوم ایک ہی رو میں بہہ رہی ہے۔ یہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایک شخص کے ذکر سے بیزار ہیں۔ جو شریف یا بھٹوخاندان کے سیاسی حامی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ اگر ہیں توکہاں ہیں؟ کالم پر ردِعمل کیوں نہیں دیتے؟ سوشل میڈیا پر تو خیر اب جوابی دشنام کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ معلوم ہوتا ہے فریق اوّل کی طرح فریقِ ثانی نے بھی کچھ تنخواہ دار رکھ لیے ہیں جو یہ خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ تاہم پس منظر میں پہلے فریق کی طرح کوئی دماغ موجود نہیں جو ہمہ جہتی میڈیا پالیسی وضع کر نے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ان کی توجہ کالموں پر نہیں ہے‘ سوشل میڈیا پر ہے۔
دوسرا ممکنہ جواب یہ ہے کہ معاشرے کا سنجیدہ طبقہ عام طور پر اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار نہیں کرتا۔ وہ اگر چاہتا ہے کہ سنجیدہ موضوعات زیرِ بحث آئیں تو اپنی اس رائے کا ابلاغ نہیں کرتا۔ یوں یہ طبقہ سماجی سطح پر رائے سازی کے کسی عمل میں شریک نہیں ہوتا۔ اس کی یہ خاموشی دوسرے فریق کو تقویت پہنچاتی ہے اور ابلاغیات کے محاذ پر اس کی عدم موجودگی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سماج میں کوئی دوسرا طبقہ نہیں پایا جاتا۔ چونکہ یہ دور ابلاغی جنگ کا ہے‘ اس لیے یہ دعویٰ کرنا آسان ہو جاتا کہ معاشرے کی غیر معمولی تعداد ایک ہی نقطہ نظر رکھتی ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ ایک حکمتِ عملی کے ساتھ سماج کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ یہ کلٹ سازی کے مربوط عمل کاحصہ ہے۔ اس حکمتِ عملی کو ٹرمپ اور مودی جیسے لوگ استعمال کر چکے ہیں۔ ریاست اور (ن) لیگ جیسی سیاسی قوتیں اس کا توڑ نہیں کر سکیں۔ ان کی جوابی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔ سماج کی ساخت کچھ اس طرح بنا دی گئی ہے کہ اس میں کسی مثبت بات کا گزر نہیں ہو سکتا۔ معاملہ صرف یہ نہیں کہ (ن) لیگ کی نہیں سنی جا رہی‘ بات یہ ہے کسی کی نہیں سنی جا رہی۔ جماعت اسلامی شریف خاندان اور مقتدرہ پر ویسی ہی تنقیدکرتی ہے جیسے پی ٹی آئی لیکن اس کی بھی کوئی پذیرائی نہیں۔ اس کی قیادت اگر خان صاحب کی تنقید میں ایک جملہ کہہ دے تو اسے بھی گھر پہنچا دیا جاتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے ایک خودکار نظام ہے‘ الگورتھم ہے کہ جیسے ہی کوئی تنقیدی آواز اٹھتی ہے‘ سب اس پر پل پڑتے ہیں۔ سبب جو بھی ہے‘ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سماج جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ ایک فکری بانجھ پن ہے اورکوئی تخم ریزی کامیاب نہیں ہے۔
کیا اس کا علاج یہ ہے کہ سماج میں ایک نیا کلٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے؟ یہ سوچنا خود فکری بانجھ پن کا ثبوت ہو گا۔ جو عمل ایک بار کرنے سے اتنے بھیانک نتائج نکلے ہیں‘ وہ اگر دہرایا جائے تو اس سماج کا جو حشر ہو گا‘ اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ اس لیے نتائج سے بے پروا ہو کر کچھ لوگوں کو استقامت دکھانا ہو گی۔ سماج میں تنوع پیدا کرنے کی شعوری کوشش کرنا ہو گی۔ عوامی پذیرائی سے بے نیاز ہو کر ان موضوعات پر لکھنا ہو گا جو اس معاشرے کی حقیقی ضرورت ہیں۔ قدرت کا نظام یہ ہے کہ ایک راستہ بند ہوتا ہے تو ہزاروں راستے کھلتے ہیں۔ ہمیں اس جانب سوچنا ہو گا۔ جنرل ضیا الحق صاحب کے دور میں ہماری فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہوئی۔ اس کا ایک نتیجہ مگر یہ نکلا کہ ہمارے ٹی وی ڈرامے نے بے مثال عروج پایا۔ ایسے ایسے تخلیق کار سامنے آئے کہ سبحان اللہ۔ ایک سماج مزاجاً یکسانیت کا شکار نہیں رہ سکتا۔ آج اس حقیقت کے ادراک کے ساتھ کوئی حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔
عمران خان صاحب ایک مقبول سیاسی راہنما ہیں۔ وہ منظر پر موجود رہیں گے۔ انہیں مصنوعی طور پر اس منظر سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ کچھ اور سیاسی وسماجی حقائق ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ زندگی تو رکتی نہیں۔ نوجوانوں کے دو تین سال بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔ وہ حالات کی بہتری کا انتظار نہیں کر سکتے۔ انہیں فیصلہ کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔ یہ بات معاشرے کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اگر لوگ اس بات کو جان جائیں تو اپنی اپنی سیاسی وابستگی کو برقرار رکھتے ہوئے اس جمود سے نکل سکتے ہیں۔ شیعہ مسلک کے لوگ مدت سے ایک امام کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ ان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ آیت اللہ خمینی صاحب نے انہیں یہ راہ دکھائی کہ امام کی غیبت کے دور میں تمہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ تمہیں ایک نائبِ امام کی ولایت میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوشش کرنی چاہیے۔ ایرانی قوم نے یہ بات مان لی اور ایک انقلاب برپا کر دیا۔
پاکستان میں بھی لوگ اپنے پسندہ لیڈر کے دورِ ثانی کی ا مید رکھ کر‘ دیگر موضوعات پر غور کر سکتے ہیں۔ ان بچوں کیلئے سوچ سکتے ہیں جن کے مستقبل کے بارے میں آج ہی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سماج کی بہتری کیلئے سوچ بچار کر سکتے ہیں جس میں ہمارے بزرگ ایک آسودہ زندگی گزار سکیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب معاشرہ کسی ایک موضوع کا اسیر نہ بنے۔ اس لیے دشنام سے صرفِ نظر کرتے ہوئے‘ ہمیں قائداعظم پر بات کرنا ہوگی۔ ہمیں سماج کے فکری ارتقا کو موضوع بنانا ہو گا۔