سدھار، دھاندرہ میں آلودہ پانی سے بیماریوں میں اضافے کا خدشہ
شہری فلٹر پلانٹس سے پانی لینے پر مجبور، صنعتی فضلے سے زیرزمین پانی آلودہ
پینسرہ (نمائندہ دنیا )حال ہی میں میونسپل کمیٹی کا درجہ حاصل کرنے والی آبادی سدھار اور دھاندرہ کی تقریباً تین لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہے ۔ شہریوں کے مطابق زیرزمین پانی کے معیار کے باعث انہیں ہیپاٹائٹس، گیسٹرو اور دیگر پیٹ کی بیماریوں کا سامنا ہے ، جبکہ کیمیکل انڈسٹری سے خارج ہونے والا آلودہ پانی گلیوں، بازاروں اور نالیوں میں جمع ہونے کے ساتھ زمین میں جذب ہوکر زیرزمین پانی کو مزید آلودہ کر رہا ہے ۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر صحت پنجاب اور کمشنر فیصل آباد سے فوری نوٹس لینے اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
سدھار اور دھاندرہ کی آبادی نئی حلقہ بندیوں کے تحت ایک لاکھ سے زائد ووٹرز پر مشتمل ہے جبکہ دونوں علاقوں کی مجموعی آبادی تقریباً تین لاکھ نفوس بتائی جاتی ہے ۔ اس قدر بڑی آبادی کے لیے پینے کا صاف پانی تاحال ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ شہریوں کے مطابق گزشتہ تقریباً دس سال سے زیرزمین پانی کے معیار کا مسئلہ برقرار ہے ، تاہم اس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایک غیر ملکی این جی او کے تحت کیے گئے سروے میں زیرزمین پانی میں بیکٹیریا اور جراثیم کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی، جس کے باعث پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments