ماحولیاتی پائیداری کیلئے لائف سائیکل اسیسمنٹ ناگزیر ہے :ماہرین
جدید ٹیکنالوجیز بدلتے موسمی حالات میں زراعتاور رسد کو بہتر بنا سکتی ہے : خطاب
فیصل آباد (سٹی رپورٹر) ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب روایتی پیداواری نظام کے ماحولیاتی اثرات کو نمایاں کر رہی ہے ، جس کے باعث ماہرین نے ماحولیاتی ذمہ داری کے جائزے ، پائیداری سے متعلق رپورٹنگ اور لائف سائیکل اسیسمنٹ کو ناگزیر قرار دیا ہے ۔ ان اقدامات سے ماحولیاتی خطرات کی نشاندہی، کاربن کے اخراج میں کمی اور زراعت و صنعت کو زیادہ پائیدار بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ دیہی عمرانیات کے زیر اہتمام نارتھمبریا یونیورسٹی نیوکاسل برطانیہ اور فروٹ آف سسٹین ایبلیٹی (ایس ایم سی) کے اشتراک سے منعقدہ ورکشاپ میں کیا گیا۔
ورکشاپ سے ڈاکٹر محمد وکیل شہزاد، صنعت کار ناصر ضیا، ڈاکٹر صدف محمود، ڈاکٹر آصف کامران، صارم محمود، میقادم جنید، ڈاکٹر محمد سلطان، ڈاکٹر نبیل امین، عطیہ عنایت، نوشابہ اسلم اور دیگر نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر محمد وکیل شہزاد نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز بدلتے موسمی حالات میں زراعت، خوراک کے تحفظ اور رسد کے نظام کی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر صدف محمود نے سائنسی تحقیق کو کسانوں، صنعتوں اور معاشرے کے لیے عملی حل میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔ ڈاکٹر آصف کامران نے کہا کہ ماحولیاتی جائزہ زراعت سمیت تمام شعبوں میں ضروری ہے ۔ ناصر ضیا نے قابل اعتماد ماحولیاتی اعداد و شمار کی اہمیت اجاگر کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments