بجلی چوری کا جھوٹا مقدمہ ، شہری کو دھمکیاں
قاری ضیاء اللہ نے الزامات کی تردید کی ،سی پی او کی انکوائری رپورٹ بھی ماتحت افسروں نے نظرانداز کردی، فیسکو چیف کو خط بھی پہنچانے نہ دیا گیا،دھکے مار کر نکال دیا
فیصل آباد (عبدالباسط سے )اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے مقدمات کی انکوائری کے بعد جاری کیے جانے والے احکامات کو ماتحت پولیس افسروں اور اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر نظرانداز کیے جانے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ بجلی چوری کے الزام میں شہری کے خلاف درج مقدمے کی سٹی پولیس آفیسر کی جانب سے کروائی گئی انکوائری میں شہری کے خلاف الزامات کے ٹھوس شواہد نہ ملنے کے باوجود مبینہ طور پر مقدمہ خارج نہ کیے جانے اور درخواست گزار کو کارروائی کی دھمکیاں دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ذرائع کے مطابق تھانہ جھمرہ کے علاقہ چک نمبر 187 رب بلوآنہ کے رہائشی قاری ضیاء اللہ کے خلاف فیسکو ٹیم کی جانب سے 23 جولائی 2026 کو مبینہ بجلی چوری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔ قاری ضیاء اللہ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انصاف کے حصول کے لیے سٹی پولیس آفیسر تنویر حسین کے دفتر میں درخواست دی، جس پر سی پی او نے ڈی ایس پی نشاط آباد کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے معاملے کی حقائق پر مبنی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی نشاط آباد نے فیسکو ملازمین اور قاری ضیاء اللہ کو انکوائری میں طلب کرکے دونوں فریقین کے بیانات قلمبند کیے ۔ انکوائری رپورٹ میں مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا گیا کہ فیسکو ملازمین بغیر اجازت شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور اہلخانہ کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئی، جبکہ فیسکو اہلکار بجلی چوری کے الزام سے متعلق کوئی واضح اور ٹھوس شواہد پیش نہ کرسکے ۔انکوائری کے بعد سٹی پولیس آفیسر کی جانب سے چیف فیسکو کے نام مبینہ طور پر ایک خط بھی ارسال کیا گیا، جس میں واقعہ میں ملوث فیسکو ملازمین کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی۔ متاثرہ شہری مذکورہ خط کے ہمراہ چیف فیسکو کے دفتر پہنچا تو اس کا الزام ہے کہ اپنے ماتحت ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اسے مبینہ طور پر ڈانٹ ڈپٹ کرکے دفتر سے باہر نکال دیا گیا۔بعد ازاں شہری نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔
عدالت کی جانب سے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے کمنٹس طلب کیے گئے تو درخواست گزار کے مطابق ایس ایچ او تھانہ جھمرہ رضوان شوکت نے مبینہ طور پر حقائق کے برعکس ریمارکس تیار کرکے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا، جبکہ متعلقہ ٹاؤن ایس پی کو بھی مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ذرائع کے مطابق سٹی پولیس آفیسر کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ کے اخراج کیلئے تھانہ جھمرہ کے تفتیشی افسر ہمایوں اختر نے اخراج رپورٹ بھی تیار کی تھی، تاہم الزام ہے کہ ایس ایچ او اور دیگر افسروں کے دباؤ پر مذکورہ اخراج رپورٹ غائب کردی گئی۔متاثرہ شہری قاری ضیاء اللہ نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سٹی پولیس آفیسر کی جانب سے کروائی گئی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں اس کے خلاف درج مقدمہ خارج کرکے اسے انصاف فراہم کیا جائے ۔ معاملے پر متعلقہ پولیس افسر اور فیسکو حکام کا مؤقف جاننے کے لیے ایس پی مدینہ ڈویژن اظہر جاوید اور چیف فیسکو عامر پنوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments