اٹھارہ ہزاری ، بڑھتے زرعی اخراجات سے کا شتکاروں کو مشکلات
کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل اور مزدوری مہنگی، فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے پر نقصان
اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا )اٹھارہ ہزاری اور گردونواح میں دھان کی فصل کی کٹائی کا آغاز ہو گیا ہے ، تاہم بڑھتے ہوئے زرعی اخراجات اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث کاشتکار شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، مزدوری اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔کاشتکاروں کے مطابق دھان کی کاشت سے لے کر فصل کی تیاری اور کٹائی تک اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ بھاری سرمایہ کاری کے باوجود انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملنے کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، جبکہ فصل کی فروخت کے وقت مناسب قیمت نہ ملنے کی صورت میں انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دھان کی کٹائی شروع ہوتے ہی کسان اپنی فصل کو محفوظ طریقے سے سمیٹنے میں مصروف ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے ۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر دھان کی فصل کا مناسب معاوضہ نہ ملا تو ان کے لیے پیداواری اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی مداخل کی قیمتوں میں کمی، پیداواری اخراجات پر قابو پانے اور دھان کی فصل کا مناسب معاوضہ یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments