دنیا کی بادشاہی قبرکا امتحان بنے تو کیا فائدہ :عبد القدیر
رمضان کے بعد انعامات کی رات کو ہلڑ بازی اور شور شرابے میں ضائع کر دیا
ڈسکہ (نمائندہ دنیا )امیر تنظیم الاخوان پاکستان عبدالقدیر اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کی تکمیل کے ساتھ ساتھ جو تقویٰ کی کیفیت کا حصول مقصود ہے اسے رمضان المبارک کے بعد عملی زندگی میں پرکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہم نے رمضان المبارک میں متقی کی کیفیت حاصل کی؟کیا ہم ان حدود و قیود کا خیال رکھ رہے ہیں جو اﷲ کریم نے ہمارے لئے مقرر فرمائی ہیں؟ کہیں یہ تو نہیں کہ رمضان المبارک کے بعد پہلی رات جسے لیلۃ الجائزہ کہتے ہیں وہ رات جو رمضان المبارک کے انعامات پانے کی رات ہے اس رات کو چاند رات کے نام پر جشن اور ہلڑ بازی اور شور شرابا میں ہم نے ضائع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام کی جماعت کو اﷲ کریم نے وہ عظمت عطا فرمائی کہ اﷲ ان سے راضی ہو گئے اور وہ اﷲ سے راضی جن سے اﷲ کریم راضی ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں ان کی عظمت یہ ہے کہ غیر صحابہ جن میں تابعین، تبع تابعین اور اہل اﷲ سب کو اکٹھا کر لیں پھر بھی وہ صحابہ کی خاک پا کو نہیں پہنچ سکتے اﷲ کریم نے صحابہ کرام کو یہ عظمتیں عطا فرمائی ہیں دنیا کی بادشاہیاں اگر قبر میں اترتے ہی امتحان بن جائیں تو کیا فائدہ ان بادشاہیوں کا؟اﷲ کریم نے جس کوجہاں جس حال میں رکھا ہے اس کیلئے وہی سب سے بہتر حال ہے ۔