گوجرانوالہ چیمبر میں ماس ٹرانزٹ منصوبے پر آگاہی سیشن
تاجروں کے تحفظات ، کمشنر اور پر اجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی
گوجرانوالہ (سٹی رپورٹر)گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کے صدر علی ہمایوں بٹ کے خصوصی اقدام پر چیمبر ہال میں ضلع کے سب سے بڑے ترقیاتی منصوبے ماس ٹرانزٹ سسٹم (میٹرو پراجیکٹ) کے حوالے سے انتہائی اہم سیشن کا انعقاد کیا گیا جس کا بنیادی مقصد میٹرو پراجیکٹ کی وجہ سے مینوفیکچررز، دکانداروں اور تاجر برادری کو درپیش مسائل کو حل کرنا اور انتظامیہ کے سامنے ان کے تحفظات پیش کرنے کا براہِ راست موقع فراہم کرنا تھا تاکہ تعمیراتی کام کے دوران مقامی کاروبار بھی کامیابی سے چلتا رہے اور شہر کا صنعتی پہیہ متاثر نہ ہو۔ تقریب میں سینئر نائب صدر سعد جمیل عرفانی، نائب صدر فیصل ستار مغل، سابق صدور، ایگزیکٹو ممبران اور مارکیٹوں کے تاجر رہنماؤں نے شرکت کی۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر کیپٹن (ر)زاہد سعید نے چیمبر ارکان کو منصوبے کے روٹس، ٹائم لائن اور معاشی اثرات پر پریزنٹیشن دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ٹریفک کے پیشِ نظر منصوبہ گوجرانوالہ کے مستقبل کیلئے ناگزیر ہے ، منصوبے کی کل لاگت 62 ارب 74 کروڑ روپے ہے ،روٹ کی کل لمبائی ساڑھے 31کلومیٹر ہے جس پر مجموعی طور پر 25 سٹیشنز تعمیر کئے جائیں گے (23 روڈ پر اور 2 انڈر گراؤنڈ ہوں گے ،اڑھائی کلومیٹر کا حصہ انڈر گراؤنڈ ٹنل کی صورت میں بنایا جائے گا۔ بین الاقوامی گائیڈ لائنز کے مطابق بننے والے اس منصوبے میں اراضی کی ایکوزیشن کو 68 مرلے سے کم کر کے صرف 46 مرلے تک محدود کر دیا گیا ہے تاکہ کم سے کم املاک متاثر ہوں۔
اس موقع پر تاجر برادری کے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے کمشنر محمد علی نے یقین دلایا کہ اس پراجیکٹ کا ڈیزائن انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق ہے جو پنڈی اور لاہور میٹرو سے زیادہ خوبصورت ہوگا۔ سیشن کے دوران تاجروں نے معاشی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس 2.5 کلومیٹر کے حصے میں انڈر گراؤنڈ ٹنل بن رہی ہے وہ گوجرانوالہ ڈویژن کا مین تجارتی مرکز ہے جہاں تقریباً 200 مارکیٹیں موجود ہیں۔ اگر تعمیراتی کام کے دوران دکانوں کے مین داخلی راستے بند کر د ئیے گئے تو تاجروں کا کاروبار مکمل تباہ ہو جائے گا۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا کہ املاک کو کم سے کم متاثر کیا جائے اور جن کی جگہ لی جا رہی ہے انہیں پرائس اسیسمنٹ کمیٹی کے ذریعے فیئر کمپنسیشن فراہم کی جائے ۔ انہوں نے زور دیا کہ پائلنگ اور تعمیر کے دوران گاہکوں کی رسائی کیلئے عارضی راستے لازمی بنائے جائیں تاکہ دکانداروں کا گاہک متاثر نہ ہو اور ان کا روزگار محفوظ رہے ۔