’’قانون سازی میں خامیاں ‘پارلیمانی نگرانی کے تقاضے ‘‘

’’قانون سازی میں خامیاں ‘پارلیمانی نگرانی کے تقاضے ‘‘

قوانین پر عملدرآمد سے جمہوری طرزِ حکمرانی مضبوط ہوگا :نو شین افتخار

سیالکوٹ (نمائندہ دنیا )ر کن قومی اسمبلی و چیئرپرسن سٹینڈنگ کمیٹی قومی ورثہ و ثقافت و صدر ینگ پارلیمنٹیرینز فور م سیدہ نوشین افتخارنے کہا ہے کہ شواہد پر مبنی قانون سازی کے فروغ اور بعد از قانون سازی کے جائزے کو پارلیمانی نگرانی کا مستقل اور مؤثر حصہ بنانے کیلئے فورم اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعد از قانون سازی کے جائزے کو قانون سازی کے عمل میں مؤثر انداز میں شامل کرنے سے قوانین پر بہتر عملدرآمد، عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری اور جمہوری طرزِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعور فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن اینڈ اویئرنس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ سے پارلیمانی امور کے ماہر ظفر اﷲ خان نے \"قانون سازی میں خامیاں اور نفاذ\" اور \"پارلیمانی نگرانی کے بنیادی تقاضے \" کے عنوان سے دو تکنیکی سیشنز کا انعقاد کیا۔ ان سیشنز میں قانون سازی میں موجود خامیوں اور نفاذ کے چیلنجوں کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں انسانی حقوق سے متعلق قانون سازی کو بطور کیس سٹڈی خصوصی اہمیت دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں