علی پورچٹھہ:تعلیمی اداروں کے باہرآوارہ نوجوانوں کی بھرمار

علی پورچٹھہ:تعلیمی اداروں کے باہرآوارہ نوجوانوں کی بھرمار

آوازیں کسنے اور مبینہ طور پر زبردستی دوستی پر مجبور کرنے کی شکایات ،والدین پر یشان

علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر)تعلیمی اداروں کے باہر آوارہ نوجوانوں کے گروہ کا قبضہ ،آوازیں کسنے اور مبینہ طور پر زبردستی دوستی پر مجبور کرنے کی شکایات سامنے آنے پر والدین میں تشویش کی لہردوڑ گئی ۔ محلہ اسلام آباد کے رہائشی ایک شہری نے اپنے نہم جماعت کے طالبعلم بیٹے کو ہراساں کئے جانے کے معاملے پر تھانہ علی پورچٹھہ میں نامزد درخواست دائر کر دی ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکلوں پر آنے والے بعض نوجوان سرکاری سکولوں کے باہر خصوصاً چھٹی کے اوقات میں طلبہ کو آوازیں کسنے اور ہراساں کرنے میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔ شکایات کے مطابق گورنمنٹ ہائی سکول کے باہر قائم غیر قانونی اڈوں اور اوباش نوجوانوں کے اجتماع سے بھی صورتحال مزید تشویشناک ہو رہی ہے ۔ بعض نوجوانوں کی جانب سے الیکٹرک سگریٹ کے استعمال اور کم عمر طلبہ کو اپنے ساتھ میل جول پر مجبور کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ والدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے رویے بچوں کی ذہنی سلامتی اور تعلیمی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔انہوں نے پولیس اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ، سکولوں کے اوقات میں نگرانی بڑھائی جائے اور تعلیمی اداروں کے باہر طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...