ضلع تھرپارکر شدید سردی کی لپیٹ میں، امراض بڑھنے لگے

ضلع تھرپارکر شدید سردی کی لپیٹ میں، امراض بڑھنے لگے

یخ ہوائیں چلنے سے بچے بوڑھے زیادہ متاثر، معمولات زندگی بھی درہم برہمپارہ نمایاں گرنے سے سرشام ہی گلیاں، سڑکیں سنسان، اسپتالوں میں رش

تھرپارکر(نامہ نگار)شدید سردی کی لہر سے نظامِ زندگی مفلوج ہوگیا، اور بیماریاں بڑھنے لگیں، ضلع میں سردی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ شمال مشرقی سمت سے چلنے والی یخ بستہ ہواؤں نے پورے ضلع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث درجۂ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ مٹھی، اسلام کوٹ، کلوئی، ننگرپارکر، چھاچھرو، ڈاہلی، کیاڑو اور دیگر علاقوں میں شدید سردی کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو ئے ہیں۔ پارہ نمایاں گرنے سے بازاروں اور گلی محلوں میں سرشام ہی سناٹا چھا جاتا ہے ۔ کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدور، کسان اور چرواہے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ شدید سردی کے باعث گرم کپڑوں ملبوسات کی طلب میں اضافہ ہوگیا، تاہم مہنگائی کے باعث غریب اور نادار طبقہ ضروری گرم سامان خریدنے سے قاصر نظر آ رہا ہے ۔ سرد موسم کے منفی اثرات صحت پر بھی واضح ہونے لگے ہیں۔ سخت سردی کے باعث بچوں اور بزرگوں میں نمونیا، کھانسی، نزلہ، زکام، بخار اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ سرکاری اور نجی اسپتالوں، بنیادی صحت مراکز اور دیہی ڈسپنسریوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق کم عمر بچوں اور ضعیف افراد کو سردی سے زیادہ خطرہ لاحق ہے ۔ محکمہ صحت کے مطابق شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں، بچوں کو گرم کپڑوں میں رکھیں، ٹھنڈی ہوا سے بچائیں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں